منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

موروثی سیاست زندہ باد، جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے والد کی نا اہلی سے خالی ہونیوالی نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

لودھراں (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیئے گئے تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے۔تفصیلات کے مطابق

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب کیلئے تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں ۔علی ترین جمعرات کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کے مقامی آفس پہنچے تو ان کے ہمراہ ان کے والد جہانگیر ترین اور پارٹی کارکنوں اور عہدیداران کی بڑی تعداد موجود تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس موقع پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ میں ہمیشہ تحریک انصاف کیساتھ کھڑا رہونگااور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود عوام کی خدمت کرتا رہونگا، انہوں نے کہا کہ کارکنان کے پرزور اسرار پر میں نے علی ترین کو تحریک انصاف کی جانب سے امیدوار نامزد کیا ہے۔بعد ازاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی ترین نے کہا کہ میں عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرونگا، انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ جیت کے بعد زرعی شعبوں سے وابستہ افراد کے حقوق پر قومی اسمبلی میں آواز اٹھاؤنگا۔  تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…