جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

شہادت سے ایک رات پہلے بینظیر بھٹو نے کیا کہا

datetime 27  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آج پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو 10 برس بیت چکے ہیں ۔اس حوالے سے ملک بھر میں تقریبات جاری ہیں ۔حکومت ہویا اپوزیشن سب ان کو خراج عقیدت پیش کرتے نظر آرہے ہیں۔انہی میں سے سابق رکن قومی اسمبلی پلوشہ خان بھی ہیں جنہوں نے  26 دسمبر 2007 کی رات بینظیر بھٹو سے ملاقات کی تھی۔۔پلوشہ خان ماضی کی طرف جھانکتے ہوئے کہتی ہیں کہ 26 دسمبر 2007 کو

رات گئے میں اور پیپلز پارٹی کے کچھ اور لوگ محترمہ بینظیر بھٹو سے ملے۔ ہماری میٹنگ کا مقصد اگلے روز ہونے والی دو اہم ملاقاتوں کا ایجنڈا تیار کرنا تھا۔ 27 دسمبر کی شام کو یورپین یونین اور امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کی بی بی سے ملاقات طے تھی مگر یہ دونوں ملاقاتیں نہ ہوسکیں۔ 27 دسمبر کو بی بی ہم سے بےدردی سے چھین لی گئیں۔اس رات بی بی کا موڈ خوشگوار تھا۔ معمول کے مطابق وہ پوری تیاری کرکے میٹنگ میں بیٹھی تھیں۔ دن بھر سیکڑوں پارٹی ورکرز اور رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے باوجود بی بی کی یادداشت ساتھ نہیں چھوڑتی تھی اور حافظہ تیز رہتا تھا۔ ہم پارٹی ورکرز کو عادت تھی کہ ہر چند گھنٹے بعد اپنی ای میل چیک کیا کرتے، کیونکہ بی بی ای میل کے ذریعے کام کی پیشرفت کے بارے میں دریافت کرتی رہتی تھیں۔پلوشہ خان یاد اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس رات بی بی نے ایک ایسی بات کی جسے میں بھول نہیں پاتی۔ اگر مجھے صحیح طور سے یاد ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ “بہت خون بہہ گیا ہے لیکن یہ دھرتی اور خون مانگ رہی ہے، مجھے لگتا ہے ہماری مٹی لال ہو جائے گی”۔ اب لگتا ہے کہ ذہن کے کسی کونے میں ان کو علم تھا کہ چند گھنٹوں میں ان کا اپنا خون بھی بہا دیا جائے گا۔آہستہ آہستہ سب چلے گئے۔ میں اور بی بی کمرے میں اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے بی بی کو بتایا کہ میں نے خواب میں کربلا کی جنگ دیکھی ہے۔ بی بی غور سے سنتی رہیں اور خواب کے متعلق مجھ سے سوال پوچھتی رہیں۔ پھر تھوڑی دیرخاموش رہنے کے بعد کہا کہ جب وہ واپس آئیں تھیں، تو انہیں لگا کہ بلاول ہاؤس میں وقت منجمد ہے۔ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی بی بی کی نیل پالش کی شیشیاں پڑی پڑی جم چکی تھیں۔ چند لمحے اور گفتگو کرنے کے بعد میں گھر روانہ ہو گئی، اس دکھ سے انجان کہ یہ میری اور بی بی کی آخری ملاقات ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…