اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

جس کو عوام پلس کر دیں اس کو کوئی مائنس نہیں کر سکتا،مریم نواز

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی)مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ٹیم جس نظریے کو لے کر چل رہی ہے وہ صرف نواز شریف ہے، نواز شریف نے آسان کے بجائے ٹھیک راستے کو ترجیح دی، اس لئے ان پر مشکلات آئیں، نواز شریف کو غلط کو غلط کہنے کی سزا ملی، نواز شریف نے عوام کیلئے عدل کی جنگ لڑنے کا اعلان کیا، جمہوریت میں ملاوت نہیں ہو سکتی، یہ نواز شریف

کا نظریہ ہے، جس کو عوام پلس کر دیں اس کو کوئی مائنس نہیں کر سکتا۔ وہ منگل کو سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کر رہی تھیں۔ مریم نواز نے کہا کہ میرے سوشل میڈیا کے شیر جوانو، قائد محترم نواز شریف آپ دیکھ رہے ہیں کہ 2013میں شروع ہونے والا مسلم لیگ (ن) کا سوشل میڈیا کہاں تک پہنچ گیا ہے، یہ سوشل میڈیا پورے ملک میں پھیل چکا ہے، میں سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں، یہ لوگ صرف مقدمہ نہیں لڑتے انٹرنیٹ پر بلکہ انہوں نے گرائونڈ پر آ کر اپنا کردار ادا کیا ہے، جی ٹی روڈ ریلی کامیاب کرائی، این اے 120کے الیکشن میں صبح 6بجے یہ لوگ میدان میں اترے اور دشمن کو دھول چٹا دی، قائد محترم آپ کی ریلی کے اندر آگے بڑھ کر حصہ لیا، یہ لوگ مسلم لیگ (ن) کی فورس بن گئی ہے جن سے مخالفین ڈرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھروں پر چھاپے پڑتے ہیں، اگر مسلم لیگ (ن) کے سپوٹر کو ڈرایا جائے تو آپ ایکشن لیں، قائد محترم، یہ لوگ اس لئے ضروری ہیں کیونکہ یہ نظریے کے رشتے سے جڑے ہیں، ان کا نظریہ نواز شریف ہے اور یہ اس نظریے کو گھر گھر پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، قائد محترم یہ آپ کے نظریہ کو آگے بڑھانے والے لوگ ہیں، میرے بھائیو اور بہنو مجھے بتائو یہ نظریہ کیا ہے، یہ نظریہ نواز شریف ہے کہ جمہوریت میں

ملاوٹ نہیں ہو سکتی، ایمپائر کی انگلیوں پر ناچنے والے نہیں ہو سکتے، نظریہ ضرورت نہیں ہو سکتا، 20کروڑ لوگوں کی رائے پر 5لوگ اپنا نظہیر مسلط نہیں کر سکتے اور جس کو آپ پلس کر دیں اس کو کوئی مائنس نہیں کر سکتا، اگر باقی اداروں کی عزت ہے تو منتخب وزیراعظم کی بھی عزت ہونی چاہیے کیونکہ وزیراعظم پر حملہ ہر اس شخص پر حملہ ہوتا ہے جس نے ووٹ دیا ہو، نواز شریف پر حملے اس لئے ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک نظریے

کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کیلئے آسان راستہ بھی تھا لیکن انہوں نے آسان راستے کے اوپر صحیح راستے کو ترجیح دی، نواز شریف آپ سے زیادہ اور کون جانتا ہے کہ حق کو حق کہنے کی قیمت کیا ہوتی ہے، آپ نے بار بار یہ قیمت ادا کی، آپ جانتے ہیں کہ ڈکٹیشن لینے کی قیمت کیا ہوتی ہے، یہ ہمت اللہ نے نواز شریف کو عطا کی ہے جو ہر کسی کے اندر نہیں ہوتی، یہاںکوئی استعمال ہو رہا ہے اور کوئی استعمال کر رہا ہے،

صرف ایک شخص ہے جو عوام کیلئے ڈٹ کر کھڑا ہے اور وہ ہے میاں نواز شریف، حق پر چلنے والوں کے راستے میں آزمائشیں بھی آتی ہیں لیکن نواز شریف پر جب آزمائش آئی آپ اس میں سے کندن بن کر نکلے، آپ نے ہر تکلیف کو سہا،1999کے مارشل لاء کے بعد میں عدالتوں اور جیلوں کی میں گواہ تھی، جس دن آپ کو عمر قید کی سزا سنائی عمر قید تو میں نے آواز لگائی کہ اللہ کا ڈر کرو آپ نے بے گناہ کو سزا دی ہے، آپ پر سختیاں آئیں پر

اس کا ثمر عوام کو جمہوریت کے تسلسل کی صورت میں ملا، آپ نے عدلیہ کو بحال کرایا، اپنی حکومت گنوا دی لیکن اپنا وعدہ پورا کیا، 2013کا الیکشن ہوا اور قوم نے آپ کو پلس کر دیا تو آپ نے پہلی بار جمہوریت پر شب خون مارنے والے مشرف پر مقدمہ بنوایا، آپ کے خلاف دھرنے، ڈان لیکس، پانامہ ہوا لیکن آپ جھکے نہیں اوریہ اس کا ثمر ہے کہ ، اب آمروں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس جدوجہد کا ثمر ہے کہ مشرف آج جلاوطنی

کی زندگی گزار رہا ہے، آپ نے چار سال قوم کی خدمت کی لیکن اقامہ اور پانامہ کا ڈرامہ رچایا گیا، آپ کے پاس راستہ تھا کہ گھر بیٹھ جاتے اور مقدمات ختم ہو جاتے، آپ نے آسان راستہ نہیں اپنایا، اس جدوجہد کے ثمرات بھی عوام کو جلد ملیں گے، عدل کی بحالی کی ضرورت ہے، کہتے ہیں جب خود پر مشکل آئی تو آپ کو عدل یاد آ گیا ہے، ہم لوگوں کو دوسروں کی تکلیف نظر آتی ہے، میاں صاحب نے اپنی اور خاندان پر تکلیفوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عدل کی جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے، ہم نے اسی پاکستان میں رہنا ہے اس لئے نواز شریف کا ساتھ دینا ہے تا کہ ایسا پاکستان ملے جس میں عدل و انصاف عوام کو ملے گا، میرے ساتھ وعدہ کرو کہ اپنے ووٹ کی حرمت کی حفاظت کرو گے، عدل اور انصاف کی اس تحریک میں عوام نواز شریف کا ساتھ دے، پاکستان پائندہ باد

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…