اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

کلبھوشن سے ماں اور بیوی کی ملاقات کرانے کے بعد پاکستان اب کیا کرنے جارہا ہے،بھارت کے چہرے پر ہوائیں اڑنے لگیں

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

اسلا م آ با د (آن لائن) پاکستان کی جانب سے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے اس کے اہل خانہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرائی جانے والی ملاقات کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں زیرسماعت کیس کا حصہ بنایا جائے گا۔اہل خانہ سے ملاقات کے بعد بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیوکا تیسرا اعترافی بیان اور ملاقات کی تمام تفصیلات پاکستان کی قانونی ٹیم آئندہ سماعت یا اس سے قبل قانون کے مطابق آئی سی جے میں پیش کرے گی۔

اس ملاقات کوکیس کا حصہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت اس معاملے پرآئندہ پاکستان کے خلاف کوئی پروپیگنڈا نہیں کرسکے تاہم وزیراعظم کی منظوری کے بعد پاکستان کی قانونی ٹیم اس معاملے میں اپنا تحریری موقف اور تفصیلات عالمی عدالت انصاف میں جمع کرائے گی۔پاکستان کی قانونی ٹیم اب عالمی عدالت انصاف میں مشاورت کے بعد جلد ایک نئی درخواست دائر کرے گی کہ کلبھوشن یادیو کیس پر عالمی عدالت انصاف کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا لہٰذا مودی حکومت کی جانب سے اپنے دہشت گرد کو بچانے کیلیے جو کیس دائر کیا گیا ہے اس کو آئی سی جے فوری خارج یا مسترد کرے کیونکہ عالمی عدالت انصاف ایک دہشت گرد کو بچانے کیلیے دائر کیس کی سماعت نہیں کرسکتی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے اس کے اہل خانہ کی ملاقات سے ’’ ویا نا کنونشن ‘‘ یا جینوا کنونشن یا کسی اور عالمی قانون یا معاہدہ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ اس ملاقات سے قبل پاکستان نے بھارت کو سفارتی ذرائع سے آگاہ کردیا تھا کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو اس کی والدہ وانتی سودھی یادیو اور بیوی چیتنکاوی یادیو سے ملاقات کی اجازت صرف’’ انسانی ہمددری‘‘ کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا

ایجنٹ کلبھوشن یادیو ایک دہشت گرد ہے اور پاکستان کے قانون کے مطابق دہشت گردی کا الزام ثابت ہونے پر فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی ہے۔ کلبھوشن یادیو ’’عام قیدی نہیں ‘‘ ہے بلکہ بڑا دہشت گرد ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے اس کے اہل خانہ کی ملاقات کرانے کے بعد بھی پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہاہے اور نہ اس معاملے سے مذاکرات کا کوئی تعلق ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بھارتی دہشت گرد کو کسی طور پر رہا نہیں کرے گا اور اس معاملے پر کسی عالمی دباؤ، سفارش اور مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جب کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیوکی سزا پر عمل درآمد یا اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ پاکستان کے قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…