جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کینیڈا کے شہری ایک سال میں کتنے ارب ڈالر کی ’’بھنگ‘‘ پی گئے؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

ٹورنٹو(مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا میں شہریوں نے 2015 میں بھنگ، گانجے اور چرس جیسی منشیات پر ساڑھے پانچ ارب امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ کیے اوراتنی ہی رقم انھوں نے وائن پر بھی خرچ کی ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ اعداد و شمار کینیڈا کے اعداد و شمار کے بیورو سے حاصل ہوئے جس نے 1960 سے 2015 کے دوران میریوانا یعنی بھنگ، چرس اور گانجے کی کھپت پر تحقیق کی ۔حکومت نے معیشت اور سماج پر

ان منشیات کے اثرات پر تحقیق کا وعدہ کیا ہے کیونکہ آئندہ سال موسم گرما سے وہ اسے جائز قرار دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے استعمال میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اور اس کا سبب بالغوں میں اس کی مقبولیت بتائی گئی ہے۔کینیڈا کے اعداد و شمارے کے بیورو کے مطابق سنہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بنیادی طور پر نوجوانوں میں یہ مقبول تھی۔لیکن 2015 کے اعداد شمار بتاتے ہیں کہ 15 سے 17 سال کی عمر کے صرف چھ فیصد نوجوانوں نے تفریح کے لیے چرس، بھنگ اور گانجے کا استعمال کیا جبکہ ان کے مقابلے میں 25 سال سے زیادہ عمر والے لوگوں کی تعداد دو تہائی رہی۔رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے باشندے سالانہ 697.5 ٹن منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور ان کے اندازے کے مطابق ان کی قیمت پانچ سے سوا چھ ارب کینیڈین ڈالر کے درمیان ہے۔چونکہ ان منشیات کو ابھی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اس لیے حکام نے اس کا تخمینہ بازار کی قیمت پر لگایا ہے اور یہ سوا سات ڈالر سے لے کر پونے نو ڈالر فی گرام فروخت ہوتی ہے۔کینیڈا کے کئی صوبوں میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ اسے قانونی حیثیت حاصل ہونے کے بعد اس کی قیمت دس ڈالر فی گرام رکھی جائے گی۔حکومت ان نشہ آور اشیا کو ملک بھر میں قانونی جواز دینے کا منصوبہ رکھتی ہے اور وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اس کے حامی ہیں لیکن اس کی قیمت کا تعین صوبوں کے ذمے ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…