جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نئے ڈیم نہ بننے سے سالانہ کتنے ارب کا پانی ضائع ہورہا ہے،تشویشناک صورتحال

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) حکومت کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر کی عدم تعمیر کے نتیجہ میں سالانہ 130 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اگر حکومت ان ذخائر کو قابل استعمال میں لائے تو ملک میں زراعت کو ترقی دی جاسکتی ہے جبکہ پن بجلی پیدا کرکے توانائی کا بحران حل ہوسکتا ہے پانی میں آبی اثاثہ وافر مقدار میں موجود ہے لیکن ڈیموں کی تعمیر کو متنازعہ بنا کر پانی ہر سال سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے بارشوں

اور برف کے گلیشیئر پگھلنے سے گرمیوں میں پانی کا ذخیرہ دریاؤں میں آتا ہے ایک عام اندازہ کے مطابق ہر سال تیس ملین ایکڑ پانی سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے اگر اس پانی کو روک کر قابل استعمال میں لایا جائے تو ملک کی معاشی صورتحال بدلی جاسکتی ہے لیکن ملک کے سیاسی لیڈر اتنے آبی ذخائر کی تعمیر پر راضی بھی نہیں ہیں جس کے نتیجہ میں نئے ڈیموں کی تعمیر ناممکن دکھائی دیتی ہے اگر داسو ڈیم بھی تعمیر کررہا ہے تو پانی کا کافی ذخیرہ قابل استعمال میں لایا جاسکتا ہے پاکستان کو قدرت نے سالانہ 45سالانہ ملین ایکڑ پانی ہر سال مہیا کرتا ہے جس میں صرف پندرہ ملین ایکڑ پانی قابل استعمال میں لایا جارہا ہے جبکہ پانی تیس ملین پانی سمندر میں چلا جاتا ہے پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ گزشتہ ستر سالوں میں صرف دو ڈیم تعمیر ہوسکتے ہیں جبکہ ملک کو ضرورت پانچ ڈیموں کی ہے جس میں سرفہرست کالا باغ ڈیم ہے جو سیاست کی نذر ہوچکا ہے ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ کم از کم بھاشا ڈیم کو فوری طور پر تعمیر کیاجائے اور اگر بھاشا ڈیم بروقت تعمیر نہ ہوسکا تو ملک کے لئے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…