جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چینی باشندوں کی خصوصی حیثیت ختم،بڑی کارروائی کی تیاریاں،چین نے پاکستان کو رضامندی ظاہر کردی

datetime 12  دسمبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (آن لائن) پنجاب کے وزارت داخلہ اور چینی کونسل جنرل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان میں مقیم چینیوں کو جرائم میں ملوث ہونے پر پاکستان کے قانون کے مطابق سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔خیال رہے کہ پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے(سی پیک)کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں میں چینی باشندوں کا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں مقیم چینی شہریوں میں سے چند جھگڑوں اور فراڈ جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے تھے۔اس معاملے کو ایڈیشنل سیکریٹری اور وائس کونسل جنرل آف چائنا کی صدارت میں وزارت داخلہ میں ہونے والے مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں زیر غور لایا گیا تھا۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے پاکستان میں مقیم چینی باشندوں کی تفصیلات لاہور میں چینی کونسل جنرل کو فراہم کی جائیں گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چینی کونسل جنرل نے اپنے شہریوں کا جرائم میں ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر جرائم میں ملوث افراد کو ٹرائل کے بعد پاکستان کے قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے سینیئر پولیس حکام نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی جانب سے کوئی بڑا جرم اب تک سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان افراد کا زیادہ شراب پینا ایک معمولی جرم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی چینی کو شراب کے نشے میں پکڑا جاتا ہے تو اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا جاتا ہے جہاں اس کی حالت بہتر ہونے کے بعد ہم اسے واپس چھوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی چینی شہری کو کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے خلاف پاکستانی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ یہ قانون صرف چینی باشندوں کے لیے نہیں بلکہ تمام بیرون ممالک سے آنے والے افراد کے لیے ہیں۔واضح رہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں دو چینی شہریوں کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اے ٹی ایم اسکمنگ فراڈ کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…