اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

یمن کی بیوقوفانہ جنگ سعودی عرب، امارات اور ایران کے فائدے میں نہیں،اقوام متحدہ

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یمن میں جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالے گا کہ یمن کے محاصرے کے باعث پیدا ہونے والے بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔

امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیوقوفانہ جنگ ہے۔ میرے خیال میں یہ جنگ سعودی عرب اور امارات کے مفادات کے خلاف ہے اور یمن کے لوگوں کے بھی۔انھوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے ’یمن کی جنگ ایران کے فائدے میں بھی نہیں ہے کیونکہ یمن ایران سے بہت دور ہے جس کے ذریعے ایران خطے میں اثر و رسوخ چاہتا ہے‘۔ان سے جب پوچھا گیا کہ ایران کے لیے یمن کی حکمت عملی اتنی مہنگی نہیں پڑ رہی جتنی سعودی عرب اور امارات کے لیے ہے تو ان کا کہنا تھا ’یہ اور وجہ ہے کہ یہ جنگ بند ہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ امریکی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے یمن کے محاصرے میں کمی کی ہے جس کے باعث امداد یمن پہنچ سکی ہے اور وہاں پر حالات بہتر ہوئے ہیں۔مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب پر شدید دباؤ ڈالا ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ امداد یمن کے لوگوں تک پہنچ سکے ۔ حالیہ دنوں میں کافی امداد یمن پہنچی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں یمن میں جنگ سے یمنی عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ساتھ سعودی عرب اور امارت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔یہ سب کے لیے بہتر ہے کہ جنگ روک دی جائے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق عرب دنیا کے سب سے غریب ملک میں 70 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا ہے جبکہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔یمن کو جس

صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔ اسے سیاسی قحط کا سامنا ہے۔جنگ سے قبل بھی یمن میں 90 فیصد خوراک بہرحال درآمد کی جاتی تھی۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار وہاں کی بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور فضائی پابندوں سے آزاد فضا پر ہوتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…