جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

یمن کی بیوقوفانہ جنگ سعودی عرب، امارات اور ایران کے فائدے میں نہیں،اقوام متحدہ

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یمن میں جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالے گا کہ یمن کے محاصرے کے باعث پیدا ہونے والے بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔

امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیوقوفانہ جنگ ہے۔ میرے خیال میں یہ جنگ سعودی عرب اور امارات کے مفادات کے خلاف ہے اور یمن کے لوگوں کے بھی۔انھوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے ’یمن کی جنگ ایران کے فائدے میں بھی نہیں ہے کیونکہ یمن ایران سے بہت دور ہے جس کے ذریعے ایران خطے میں اثر و رسوخ چاہتا ہے‘۔ان سے جب پوچھا گیا کہ ایران کے لیے یمن کی حکمت عملی اتنی مہنگی نہیں پڑ رہی جتنی سعودی عرب اور امارات کے لیے ہے تو ان کا کہنا تھا ’یہ اور وجہ ہے کہ یہ جنگ بند ہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ امریکی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے یمن کے محاصرے میں کمی کی ہے جس کے باعث امداد یمن پہنچ سکی ہے اور وہاں پر حالات بہتر ہوئے ہیں۔مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب پر شدید دباؤ ڈالا ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ امداد یمن کے لوگوں تک پہنچ سکے ۔ حالیہ دنوں میں کافی امداد یمن پہنچی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں یمن میں جنگ سے یمنی عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ساتھ سعودی عرب اور امارت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔یہ سب کے لیے بہتر ہے کہ جنگ روک دی جائے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق عرب دنیا کے سب سے غریب ملک میں 70 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا ہے جبکہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔یمن کو جس

صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔ اسے سیاسی قحط کا سامنا ہے۔جنگ سے قبل بھی یمن میں 90 فیصد خوراک بہرحال درآمد کی جاتی تھی۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار وہاں کی بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور فضائی پابندوں سے آزاد فضا پر ہوتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…