جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین پر قدرت بھی مہربان، چین میں سونے کے بڑے ذخائر دریافت، چین سونے کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں کون سے نمبر پر آ گیا؟

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین پر قدرت بھی مہربان ہے، چین میں سونے کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، ذخائر کیے صرف ایک حصے کی مالیت کا تخمینہ 16ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے، دنیا اتنے بڑے سونے کے ذخائر دریافت ہونے پر ورطہ حیرت میں مبتلا ہے، چین سونے ذخائر رکھنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر آگیا ہے۔

چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سونے کے یہ ذخائر یہ ذخائر بحیرہ مشرقی چین میں دریافت ہوئے ہیں۔چین پر قدرت کچھ ایسی مہربان ہوئی ہے کہ اس کے سمندر کی تہہ میں ہزاروں ٹن سونے کے ذخائر دریافت ہوگئے ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ صرف ایک حصے کی مالیت 16 ارب ڈالر یعنی تقریباً 16 کھرب پاکستانی روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔ لائی زو شہر کے قریب سمندر کی تہہ میں 15سو ٹن سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جبکہ کچھ ہی عرصہ قبل 2ہزار ٹن سونے کے ذخائر بھی دریافت ہوچکے ہیں۔ منصوبے کے روح رواں یانگ جن جین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیاں اس سے پہلے تقریباً 800 میٹر کی گہرائی سے سونا نکال رہی تھیں لیکن یہ ذخائر تقریباً 2ہزار میٹر کی گہرائی پر واقع ہیں لہٰذا انہیں نکلالنے کے لئے نئی ڈرلنگ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔ گزشتہ جولائی میں چین نے انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ چھ سال کے دوران اس کے سونے کے ذخائر میں 60 فیصد اضافہ ہوا اور اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق چین دنیا میں سونے کے ذخائر رکھنے والا پانچواں بڑا ملک بن گیا تھا۔نئی دریافت کے بعد تازہ ترین اعداد و شمار کیا ہونگے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…