جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حضرت عیسیٰؑ کی 500سال پرانی دنیا کی نادر اور مہنگی ترین پینٹنگ کےخریدارکوئی اور نہیں بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نکلے،کتنے کروڑ ڈالر میں خریدا، امریکی میڈیا نے بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی نادر پینٹنگ کے اصل خریدار سعودی شہزادہ سلمان ہیں۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈاونچی کی بنائی ہوئی دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ ‘ سلاوتور مندی کے خریدار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔یاد رہے کہ گذشہ ماہ نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 500 سال پرانی پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر

میں فروخت ہوئی تھی لیکن نیلام میں خریدنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔وال سٹریٹ جرنل کی خبر کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ پینٹنگ خریدنے کے لیے اپنے جاننے والے کی مدد حاصل کی تھی گذشتہ روز جعمرات کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس پینٹنگ کے خریدار کے طور پر ایک سعودی شہزادہ بدر بن عبداللہ بن محمد بن فرحان السعود کا نام ظاہر کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ حال ہی میں شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کے شاہی منصوبے کے تحت کئی شہزادوں اور حکومتی وزرا کو گرفتار کیا تھا اور ان کی رہائی کیعوض لوٹی ہوئی دولت لوٹانے کو کہا تھا۔تصفیلات کے مطابق کرسٹیز میں ہونے والی نیلام میں جمع کرائی گئے کاغذات کے مطابق خریدار کا نام شہزادہ بدر بن عبداللہ بن محمد بن فرحان السعود کا نام درج تھا لیکن امریکی خفیہ حکام کی رپورٹس کے مطابق اصل خریدار سعودی ولی عہد ہیں۔فرانس کے لوور میوزیم کی ابو ظہبی میں حال ہی میں کھلنے والی شاخ نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ یہ پینٹنگ ابو ظہبی کے لوو میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی جائے گی۔سلاوتور مندی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے 1505 میں تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کے خالق لیونارڈو ڈا ونچی کی وفات 1519 میں ہوئی تھی اور اب ان کی بنائی ہوئی 20 سے بھی کم پینٹنگز وجود میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…