جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

24گھنٹے نارنجی احرام پہننے والا پاکستانی بزرگ مسجد نبویؐ جا پہنچا سنت نبوی ؐ پر عمل کرتے ہوئے سفید احرام کیوں نہیں پہنتے؟ سعودی عالم کے سوال پر ایساجواب کہ آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسجد نبویﷺ میں پاکستانی بزرگ نارنجی رنگ کا احرام پہن کر پہنچ گیا، مسجد نبویﷺ میں زائرین کی رہنمائی پر متعین عالم دین کے دریافت کرنے پر پیر کی سنت ادا کرنے کا اعتراف، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا

پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے شہر کراچی سے عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس کا سفر کرنے والا بزرگ پاکستانی نارنجی رنگ کا احرام پہن کر مسجد نبویﷺ میں پہنچ گیا جس پر وہاں زائرین کی رہنمائی کیلئے متعین ایک پاکستانی عالم دین نے انہیں اپنے پاس بلا کر نارنجی رنگ کا احرام پہننے کی بابت دریافت کیا تو پاکستانی بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے لانڈھی کا رہنے والا ہے اور بھارت میں مدفون حاجی وارث علی کا مرید ہے۔ ان کے مرشد نے ساری زندگی نارنجی رنگ کا ان سلا کپڑا پہنا ہے اور وہ اپنے مرشد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد یہی لباس زیب تن کئے ہوئے ہے۔ جس پر زائرین کی رہنمائی کیلئے متعین پاکستانی عالم دین نے انہیں نبی پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا کہ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں ان کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ان کی پیروی کرنی چاہئے، نبی کریم ﷺ نے حج اور عمرہ میں ان سلا سفید رنگ کا احرام استعمال کیا اور حج و عمرہ کے بعد سلا ہوا لباس پہنا۔ ہمیں کسی پیر کے بجائے اپنےنبی کریمﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…