پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بھارتی ٹماٹر نہ منگوانے پر پاکستان کو صرف پانچ ماہ میں کتنے ارب روپے کی بچت ہوئی؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)صوبائی وزیرخوراک بلال یاسین نے کہا ہے کہ بھارت سے سبزیوں کی درآمد پر پابندی سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑا بلکہ مقامی کاشتکار کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی ہے، صرف بھارتی ٹماٹر نہ منگوانے سے جولائی تا نومبر پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں 10ارب روپے کی بچت ہوئی اور اس بار سندھ میں ربیع سیزن میں بھی ٹماٹر کاشت کیا گیا ہے۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے

جس میں ایم پی اے عبدالرؤف مغل، سیکرٹری زراعت، ڈی جی زراعت اور دیگر متعلقہ ارکان نے شرکت کی۔ اس موقع پر اہم سبزیوں، پھلوں اور دالوں کی قیمتوں کا تفصیلی تقابلی جائزہ لیا گیا۔وزیر خوراک نے بریفنگ کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے کم معیار کی سبزیاں نہ منگوانے کی پالیسی کے ملکی زراعت پر اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ماضی میں بھارت خود اچھے معیار کا آلو استعمال کرکے پاکستان کو چھوٹے سائز اور سیاہ رنگ کا آلو برآمد کردیتا تھا حالانکہ پاکستان کے آلو اور پیاز کا معیار بہت اچھا اور پوری دنیا میں اس کی مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے سپلائی بڑھنے سے پنجاب میں ٹماٹر کی قیمتیں معمول پر آ رہی ہیں۔ گزشتہ برس اسی مہینے میں ٹماٹر کا ہول سیل ریٹ 58روپے کلو تھا جبکہ اس وقت نرخ 59روپے ہے۔ ایم پی اے عبدالرؤف مغل کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کمیٹی نے محکمہ زراعت کو سفارش کی کہ وہ کاشتکاروں کو ترغیب دے کہ صرف گندم کی کاشت پر زور دینے کی بجائے خوردنی تیل والی فصلیں بھی کاشت کریں تاکہ خوردنی تیل کی مد میں خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکے۔بلال یاسین نے پیاز کی قیمت میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ وہ تھوک اور پرچون نرخوں میں زیادہ فرق نہ آنے دیں اور اس ضمن میں پرائس مجسٹریٹس کو متحرک کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…