بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

اگر ٹیم کو نئی شکل دینی ہے تو چند میچزکی ناکامیوں کو برداشت کرنا ہوگا، مصباح

datetime 22  اپریل‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) مصباح نے قوم کو شکست کی کڑوی گولی نگلنے کا مشورہ دے دیا،ٹیسٹ کپتان کاکہنا ہے کہ اگر ٹیم کو نئی شکل دینی ہے تو چند میچزکی ناکامیوں کو برداشت کرنا ہوگا، جب بھی کسی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی عمل میں آئے تو یقینا اس کے اثرات کارکردگی پر پڑتے ہیں کیونکہ ٹیم بننے میں وقت لگتا ہے۔
مصباح الحق نے بنگلہ دیش سے ٹیسٹ سیریز کیلیے ڈھاکا روانگی سے قبل بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی بنگلہ دیش کیخلاف ون ڈے سیریز میں شکست کی وجہ یہی ہے کہ ٹیم میں چند نئے کھلاڑی آئے ہیں،جو پرانے پلیئرز ہیں وہ بھی مستقل اسکواڈ میں نہیں رہے تھے،اس کے برعکس میزبان سائیڈ میں موجود تجربہ کار کھلاڑی کافی عرصے سے کھیل رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بھی ان کی کارکردگی اچھی رہی،خاص کر اپنی کنڈیشنز میں بنگلہ دیشی ٹیم بہت مضبوط ہے، وہ ماضی میں پاکستان کی تجربہ کار ٹیم سے بھی آسانی سے نہیں ہارتی تھی۔ مصباح نے کہا کہ اگر ہم نے مستقبل کے لیے ٹیم بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ان نوجوانوں پر اعتماد کرنا ہوگا،صرف 2میچزکی کارکردگی پر اکھاڑ پچھاڑ کا سوچنا ان کھلاڑیوں کے اعتماد کو متاثر کرے گا اور وہ کبھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائیں گے۔
سینئر بیٹسمین نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر چند ناکامیوں سے گھبرانے کے بجائے ینگسٹرز پر اعتماد برقرار رکھا گیا تو یہی ٹیم 2 سال میں ایک مضبوط پوزیشن میں کھڑی ہوگی۔مصباح الحق نے کہا کہ موجودہ ون ڈے سیریز سے قطع نظر پاکستانی سائیڈ جب بھی بنگلہ دیش سے کھیلی دباو¿ اسی پر ہوتا ہے،البتہ ہماری ٹیسٹ ٹیم تجربہ کار اور اس کا کمبی نیشن اچھا ہے، ہم نے حالیہ دنوں میں جو اچھی کارکردگی دکھائی اسے جاری رکھے گی۔
سعید اجمل کی واپسی کے بارے میں کپتان نے کہاکہ جب بھی کوئی کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں کچھ عرصے کے بعد واپس آئے تو اپنی کارکردگی کے معاملے میں محتاط ہوتا ہے، اس کے بارے میں خدشات بھی موجود ہوتے ہیں۔سعید اجمل نے پہلے ون ڈے کے مقابلے میں دوسرے میچ میں بہتر بولنگ کی، وہ جوں جوں میچز کھیلیں گے اعتماد بحال ہوتا جائے گا، پھر وہ اپنی مہارت کو استعمال کریں گے جس کے لیے وقت چاہیے۔
سعید اجمل سے یہ توقع کرنا درست نہیں کہ وہ آتے ہی 10 اوورز میں 20 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل رلینگے،انھیں 1، 2 سیریز کھیلنے دیں، صرف 2میچزکی بنیاد پر ان کی بولنگ کے بارے میں فیصلہ یا کوئی نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں ہے۔ مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ پاکستانی فاسٹ بولرز کا ایک کے بعد ایک ان فٹ ہونا تشویش کی بات ہے،کوچز اور ٹرینر کھلاڑیوں کو فٹنس کے لیے ضرور گائیڈ کرتے ہیں لیکن یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ جب کیمپ یا میچ میں نہیں ہیں تو اس پر کتنا عمل کرتے اور خود کو کتنا فٹ رکھتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…