جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قذافی کے قتل کے بعد لیبیا میں کیا ہو رہا ہے؟ انسانوں کو قتل کرکے ان کے کباب بنائے جانے لگے، لرزہ خیز انکشافات

datetime 3  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جب سے معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے اس وقت سے لیبیا میں انتشار پھیلا ہوا ہے، لیبیا میں کئی شدت پسند گروہ موجود ہیں جو نائیجیریا اور دیگر افریقی ممالک سے یورپ جانے والے پناہ گزینوں کو اغواء کرکے انہیں منڈیوں میں فروخت کر رہے ہیں، تفصیلات کے مطابق آئی بی ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائیجیریا کے سابق وزیر ثقافت فیمی فانی کیودے نے دعویٰ کیا ہے کہ نائیجیریا کے باشندوں کو لیبیا

میں اغواء کرکے قتل کیا جا رہا ہے اور ان کے گوشت کے کباب بنائے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایک نئی زندگی کا خواب آنکھوں میں لیے یورپ جانے کی امید میں لیبیا پہنچتے ہیں اور وہاں وہ غلاموں کی تجارت کرنے والے گروہوں کے ہاتھ لگ کر فروخت کر دیے جاتے ہیں یا پھر انہیں کاٹ کر ان کے گوشت کے کباب بنا دیے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2017ء میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی طرف سے تنبیہ جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ لیبیا میں کم از کم 20 ہزار لوگ غلام بنائے جا چکے ہیں جو اغواء کرنے والوں کے قید خانوں میں موجود ہیں۔ فیمی کیودے نے مزید کہا کہ لیبیا میں پہنچنے والے پناہ گزینوں میں سے تین چوتھائی نائیجیرین باشندے ہوتے ہیں، ان میں سے 75 فیصد کے لگ بھگ لوگ غلام بنا کر فروخت کر دیے جاتے ہیں لیکن ان سب کا انجام موت ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بعض سے اس وقت تک کام لیا جاتا ہے جب تک وہ مر نہیں جاتے، بعض کے اعضاء کاٹ کر ان کے کباب بنائے جاتے ہیں اور بعض کو مارنے کے بعد انہیں آگ پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں سی این این نے اپنے ایک رپورٹر کو لیبیا بھیجا جو وہاں بھیس بدل کر گیا اور اس نے وہاں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہاں انسانوں کی خرید و فروخت کی منڈیاں موجود ہیں اور ان منڈیوں میں مردوں اور خواتین کو 42 ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…