جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بچے کی آخری رسومات کے دوران مردہ بچہ اٹھ کر بیٹھ گیا

datetime 2  دسمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارتی دارالحکومت کے علاقے شالیمار باغ کے ایک نجی اسپتال کے ڈاکٹرز نے زندہ بچے کو مردہ قراردے دیا۔دہلی کے میکس اسپتال میں ڈاکٹرز کی غفلت کے حالیہ واقعے نے نہ صرف بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کررکھ دیا بلکہ حکومت بھی ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت پر تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔ اسپتال میں جڑواں بچوں کی قبل از وقت پیدائش کے بعد ڈاکٹرز نے دونوں بچوں کو مردہ قرار دے دیا تھا۔ والدین جب اسے آخری رسومات

کے لیے کر جارہے تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کررہا ہے جسے لے کر وہ لوگ فوراً اسپتال پہنچے۔بچے کے نانا کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور اس کے 12 منٹ بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی یہ دونوں بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے۔ ڈاکٹرز نے ہم سے کہا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی ہے جب کہ بچہ زندہ ہیاور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے گھر والوں سے کہا کہ بچہ بھی اس دنیا میں نہیں رہا اور اس کی لاش ایک پلاسٹک بیگ میں رکھ کر ہمیں دے دی۔آخری سومات کے لیے لے جاتے وقت ہم نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کررہاہے جب بچے کو دیکھا گیا تو وہ سانس لے رہاتھا اس کے بعد گھر والے بچے کو لے کر قریبی اسپتال پہنچے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ بچے کو زندہ دیکھ کر گھر والے طیش میں آگئے اور انہوں نے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی پولیس میں شکایت درج کرائی۔دوسری جانب میکس اسپتال کی انتظامیہ کا کہناہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرائیں گے جب کہ متعلقہ ڈاکٹرز سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور اسے معطل کردیا گیا ہے۔ اس واقعے پردہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…