جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

فوج تو بیرکوں میں ہی رہی مگر اس کی اعلی قیادت نے مداخلت کرکے کیا ، کیا؟فیض آباد دھرنے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کے مختلف تبصرے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) فیض آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے کے حوالے سے دنیا بھر کے میڈیا کے ساتھ ساتھ بھارت کے میڈیا نے بھی مختلف تبصرے کیے ۔پیر کو وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔وفاقی وزیر کے استعفی کے بعد حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے درمیان 6 نکاتی معاہدہ طے پا گیا۔

اس حوالے سے دنیا بھر کے میڈیا نے پاکستان کی اس کشیدہ صورتحال پر مختلف طرح کے تبصرے کیے ہیں جن میں بھارتی میڈیا بھی شامل ہے۔بھارتی اخبار’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے مطابق پاکستان کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفی کے بعد مذہبی جماعتوں نے اسلام آباد میں اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک بھر سے اپنے حامیوں کو احتجاج ختم کرکے پرامن طریقے سے منتشر ہونے کی ہدایت کی۔اخبار کا کہنا تھا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت پاکستانی حکومت پر دبا ڈالنے اور اسے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرسکتی ہے،یہ جماعت انتخابی اصلاحات بل میں ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حلف نامے میں ترمیم پر وفاقی وزیر کے استعفی کا مطالبہ کررہی تھی، جس کو بعد میں پارلیمنٹ نے بدل بھی دیا۔اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بتایا تھا کہ کہ حکومت نے مذہبی جماعت سے معاہدے پر دستخط ‘خانہ جنگی جیسی صورتحال’ سے بچنے کے لیے کیا۔’’ہندوستان ٹائمز ‘‘نے بھی لکھا کہ تحریک لبیک نے اپنا ملک گیر احتجاج اس وقت ختم کرنے کا اعلان کیا جب پیر کو پاکستان کے وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق اس جماعت کے احتجاج نے پاکستان بھر میں روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا تھا اور پیر کو بھی بیشتر اسکول، کاروباری ادارے اور پبلک ٹرانسپورٹ غائب تھی

مگر حالات میں بہتری کے بعد کاروباری زندگی بحال ہونے لگی۔اخبار کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج تو بیرکوں میں ہی رہی مگر اس کی اعلی قیادت نے مداخت کرکے نیوز چینیلز اور سوشل میڈیا پر سے پابندی ختم کرائی، جس کے بعد وفاقی وزیر نے اس وقت مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا جب رینجرز نے اسلام آباد کی متعدد اہم گلیوں کا کنٹرول سنبھالا۔ بھارتی روزنامے ’’دی ہندو‘‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وفاقی وزیر زاہد حامد کا استعفی حکومت اور مظاہرین کے درمیان رات گئے ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں سامنے آیا، جس کے بعد حالات میں بہتری آنے لگی۔

رپورٹ کے مطابق تین ہفتوں سے اس جماعت کے حامی اسلام آبادمیں وفاقی وزیر کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور ہفتہ کو انہیں منتشر کرنے کے لیے آپریشن کے بعد اس احتجاج کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیا۔بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد ‘ملک کو بحرانی کیفیت سے باہر نکالنے’ کے لیے مستعفی ہوگئے، جس کے بعد تین ہفتے سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس حوالے سے حکومت اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان معاہدہ بھی ہوا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو حکومتی احکامات کے باوجود کوئی فوجی اہلکار احتجاج کے مقام پر نظر نہیں آیا بلکہ اتوار کی شام وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ رینجرز کو بھی مظاہرین کے حوالے سے اختیار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…