جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

فیض آباد دھرنا،حافظ محمد سعید نے بھی حکومت کو مزید انتشار سے بچنے کیلئے اہم تجویز دیدی

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کیخلاف آپریشن اورمختلف شہروں و علاقوں میں تشدد بڑھنے کے واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ پرامن طور پر حل کرے،تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور موجودہ حالات میں ملک کسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات تسلیم کرے،

راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائے اورختم نبوت کے حوالہ سے قانون میں ترمیم کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کرے تو دھرنوں جیسے مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ حکومت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عقیدہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیاد جزو اور انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ اس معاملہ پرتشددکی صورتحال پیدا ہونے سے ملک میں انتشار کی فضا پیدا ہو گی اوراسلام دشمن قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ امریکہ و یورپ کی شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان میں ختم نبوت کے مسئلہ کو بگاڑا جائے اور آئین میں ختم نبوت کو جو تحفظ حاصل ہے اسے ختم کردیا جائے۔ اس کیلئے کئی غیر ملکی این جی اوز کروڑوں روپے کے بجٹ خرچ کر رہی ہیں اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ملک میں مسلمانوں کی صفوں میں قادیانیوں کو داخل کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہمیں متحد ہو کر دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنانا اور ملک میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر لائے اور وفاقی وزیر قانون سمیت جو کوئی بھی اس معاملہ میں ملوث ہے‘ ان سب کیخلاف کاروائی کرتے ہوئے سخت سزا دینی چاہیے۔ اس معاملہ کو تشدد کی طرف لیجانا کسی طور درست نہیں ہے۔ معاملات کو باہم مذاکرات اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…