جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

پاکستانیوں کو اگلے 3دن کے دوران کس اہم ترین چیز کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،خبر دار کردیا گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) ملک کو آئندہ تین دنوں میں بڑے پیمانے پر ایندھن بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ بائیکو اور پارکو سمیت ملک کی دیگر ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت کو اپنی پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس مصنوعات کی پیداوار روکنے سے متعلق آگاہ کردیا ہے، کیونکہ ان کے اسٹورز فرنس آئل سے بھرے ہوئے ہیں۔13 نومبر کو سیکریٹری پیٹرولیم کو لکھے گئے خط میں بائیکو نے آگاہ کیا کہ ان کے پاس ایندھن کی مصنوعات

کو اسٹور کرنے کی گنجائش نہیں ہے، دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس بھی فیول پروڈکٹس کو اسٹور کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ ان کے اسٹور میں فرنس آئل موجود ہے۔آئل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ فرنس آئل بیسڈ پاور پلانٹس کی بندش سے ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اسٹوریج کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب وہ پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس مصنوعات کی پیدوار جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ ماہ 27 اکتوبر کو متعلقہ انڈسٹری کو اعتماد میں لیے بغیر پاور پلانٹس کو ڈیزل اور فرنس آئل سے نہ چلانے کا غیر معمولی فیصلہ کیا تھا، اس فیصلے کا مقصد نقد رقم کے بہاؤ اور گردشی قرضوں کے منفی اثرات کو کم کرنا تھا۔3 نومبر 2017 کو آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو ایک خط لکھا، جس میں فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کی بندش کے اثرات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل اور ان کے متعلقہ ڈپارٹمنٹس نے کئی دن تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔تاہم کافی دن بعد بائیکو اور پارکو کی جانب سے خطوط موصول ہونے کے بعد وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حکام ایکشن میں آئے اور اس سلسلے میں بدھ (22 نومبر) کو سیکریٹری پیٹرولیم کی سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی،

جس میں ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ریفائنریوں کی جانب سے تجویز دی گئی کہ حکومت کو میرٹ کی بنیاد پر فرنس آئل بیسڈ پاور پلانٹس چلانے چاہئیں تاکہ روزانہ 10 ہزار سے 12 ہزار ٹن فرنس آئل مقامی ریفائنریوں سے اٹھایا جاسکے اور اگر پاور ڈویڑن نے اس میں دلچسپی نہ لی تو پاکستان میں کوئی ریفائنری مقامی خام تیل نہیں اٹھائے گی، جس کے نتیجے میں تیل کے کنویں بند ہوجائیں گے اور ان کنوؤں سے گیس منقطع ہوجائے گی۔سیکریٹری پیٹرولیم نے اجلاس کے شرکاء4 کو بتایا کہ وہ اس معاملے کو پاور ڈویژن کے سامنے اٹھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…