اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

عمران خان کا نوکر نہیں،تحریک انصاف کا ایم این اے ہوں،داور کنڈی کے ’’کپتان‘‘پر جوابی وار،بہت کچھ کہہ ڈالا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(نیوزڈیسک)عمران خان کا نوکر نہیں،تحریک انصاف کا ایم این اے ہوں،داور کنڈی کے ’’کپتان‘‘پر جوابی وار،بہت کچھ کہہ ڈالا، تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما داور کنڈی نے امین گنڈاپور کے ساتھ تنازعے کے بعدچیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف پھٹ پڑے، نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے داور خان کنڈی نے کہا کہ عمران خان مجھے اس وقت تک پارٹی سے نہیں نکال سکتے جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے

کہ میں نے پارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ایسے کوئی بھی کسی کو پارٹی سے نہیں نکال سکتا، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ٹی وی پرآکر کسی کے خلاف بات کر دیتے ہیں جبکہ اس کو شو کاز نوٹس کے ذریعے اطلاع تک نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ میں تحریک انصاف کا ایم این اے ہوں ،عمران خان کا نوکر نہیں ،میرے خلاف تحقیقات کے بغیر انہوں نے مجھے جھوٹا کہا ہے۔واضح رہے کہ عمران خان نے امین گنڈاپور کی حمایت کرتے ہوئے داور کنڈی کو پارٹی سے نکالے جانے کے حوالے سے ویڈیو جاری کی تھی اور کہاتھا کہ کنڈی نے پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما داور خان کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی پر تشدد اور برہنہ کر کے گھمانے کے معاملے کو اٹھانے پر اپنے خلاف ویڈیو بیان پر کہاہے کہ عمران خان نے ویڈیو بیان دے کر آمرانہ رویہ ظاہر کیا ہے۔ایک انٹرویومیں داور خان کنڈی نے کہا کہ ہمارے یہاں پارٹی کا چیئرمین خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے کہ میں جو کہوں گا وہی ہوگا ٗاگر میں غلطی پر سوال کروں گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران خان مجھے پارٹی سے نکل جانے کا کہیں ٗمیں اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہوں کیونکہ مجھے پارٹی کی جانب سے اب تک شو کاز نوٹس نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جس طرح پارٹی چلا رہے ہیں اس سے نظر نہیں آتا کہ کہیں انصاف یا وہ نظریہ ہو جو پاکستان تحریک انصاف کا خاصہ اور اس کا منشور ہے ٗخان صاحب کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح وہ پارٹی چلائیں گے تو پارٹی کا بھٹہ بیٹھ جائیگا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ میں نے علی امین گنڈا پور کے خلاف الزامات نہیں لگائے تھے ٗیہ ایک سماجی مسئلہ تھا جو میرے حلقے میں ہوا اور میں اس بات کی توقع نہیں کر رہا تھا کہ پی ٹی آئی کا کوئی وزیر اس میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے یہاں اس قسم کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے لیکن پہلی بار کسی 16 سالہ لڑکی نے اس کی ہمت کر کے ایک مثال قائم کی، تو علاقے کے رکن قومی اسمبلی ہونے کے طور پر میری ذمہ داری تھی کہ میں اس کے ساتھ کھڑا ہوتا، لڑکی نے جو حقائق بیان کیے اس کا اشارہ وزیر کی جانب تھا جس کے متعلق میں نے پارٹی کو بتایا۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو منظر عام پر لانا میری اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری تھی، اس معاملے میں اگر مجھے کوئی بڑی قربانی بھی دینا پڑے تو میں دوں گا جبکہ میں اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…