جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

چاہتی ہوں میرے کردار اور کام میں یکسانیت دکھائی نہ دے، ماہرہ خان

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(یوا ین پی) معروف اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ پاکستان میں فلمسازی کا انداز بالی ووڈ سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہماری فلمیں بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت حاصل کرلیں گی۔’’میڈیا‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے ماہرہ خان نے کہا بالی ووڈ ہو یا پاکستان جہاں بھی اچھاکام کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ ہی میری ترجیح ہوتا ہے۔ میں پاکستانی ہوں اورمجھے اصل پہچان اپنے وطن سے ملی ہے لیکن دوسرے ملک میں جاکرمنفرداور

معیاری کام کرنا بھی اعزازکی بات ہوتی ہے۔ ایک فنکارکے لیے چھوٹی یا بڑی فلم انڈسٹری کا حصہ بننے کے بجائے کام زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے یہ تصورکیا جاتا تھا کہ ہماری فلم انڈسٹری وسائل کی کمی کی وجہ سے چھوٹی ہے اوریہاں فارمولا فلمیں بنائی جاتی ہیں تو اب ایسا نہیں رہا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جوفلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں، وہ تکنیکی اعتبارسے بہترین تھیں اوراس کے علاوہ ان کی کہانی، میوزک اورلوکیشنز پربھی خاص توجہ دی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ فلمیں ہر لحاظ سے تفریح کا باعث بنیں۔ اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے بہت سے باصلاحیت ڈائریکٹراور پروڈیوسر فلمسازی کے شعبے میں قدم رکھ رہے ہیں۔دوسری جانب کارپوریٹ سیکٹر بھی فلم انڈسٹری کی سپورٹ کے لیے بھرپور کردارادا کررہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ماہرہ خان نے کہا کہ مجھے فلموں میں کام کرنے کے لیے بہت سی آفرز ہوتی ہیں لیکن میں فلم کی کہانی اوراپنے کردارکے انتخاب کے بعد ہی فلم سائن کرتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ میرے کرداراورکام میں یکسانیت دکھائی نہ دے۔ انھی اصولوں کے ساتھ میں نے ٹی وی ڈراموں میں کام کیا اوراسی لیے لوگ مجھے پسند کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…