جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

دبئی کے شاہی خاندان نے پاکستان کے 80 ارب روپے ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کے حکمران خاندان نے پاکستان کے 80 ارب روپے دینے سے انکار کر دیاہے اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت نے 80 ارب روپے کی ریکوری کے لیے کوئی خط بھی نہیں لکھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دبئی کی کمپنی اتصالات جو کہ شاہی خاندان کی ملکیت ہے نے پی ٹی سی ایل کی فروخت کا معاہدہ کرکے پاکستان کو 800 ملین ڈالر کی ادائیگی کرنے سے انکار کردیا ہے اور انکار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار دبئی شاہی خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کے ملازم تھے اور ان کمپنیوں کے نام پر انہوں نے اقامے حاصل کیے ہوئے تھے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو کہ آج کل لندن مقیم ہیں نے بھاری سود پر اربوں ڈالر کے قرضے حاصل کیے مگر انہیں حکومت پاکستان کی ذاتی دولت 800 ملین روپے دبئی حکمرانوں سے وصول کرنے کے لئے خط لکھنے کی توفیق نہ ہوئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ایک بیٹا ابھی تک دبئی کے شاہی خاندان کا ملازم ہے۔ اس کے علاوہ اتصالات کو زیادہ فائدہ دینے والے زرداری حکومت کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ بھی دبئی میں شاہی خاندان کی ملازمت میں ہیں۔ شاہی خاندان کی کمپنی اتصالات نے بہانہ بنا رکھا تھا کہ 3200 جائیدادوں کی منتقلی تک 800 ملین روپے نہیں دیں گے یہ جائیدادیں بھی اب شاہی خاندان کو منتقل ہو چکی ہیں اس کے باوجود وہ پاکستان کو رقم نہیں دے رہے۔ حکومت پاکستان کے ذمہ دار وزیر خزانہ‘ وزیر خارجہ نے دبئی کے اقامے لے رکھے ہیں اسی وجہ سے وہ دبئی کی کمپنی اتصالات کے ساتھ کوئی سخت اقدام نہیں کر رہے۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز بھی 800 ملین روپے وصول کرنے میں ناکام ہیں واضح رہے کہ دبئی کے شاہی خاندان کی کمپنی اتصالات سے حکومت پاکستان گزشتہ 12 سال سے یہ بھاری رقم حاصل نہیں کر سکی اور اس دوران بھاری سود پر اربوں ڈالر کے قرضے لیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…