منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

ہدایتکار شعیب منصوراورماہرہ خان کی فلم ’’ورنہ ‘‘پر سنسر بورڈ کی تلوار لٹکنے لگی

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)ہدایتکار شعیب منصوراورماہرہ خان کی فلم ’’ورنہ ‘‘پر سنسر بورڈ کی تلوار لٹکنے لگی جس کے بعد فلم کی ریلیز مشکلات کا شکار ہوگئی۔شعیب منصور کمرشل اورروایتی دھوم دھڑکے کے بجائے حقیقی موضوعات پر فلمیں بنانے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ ’’ فلم خدا کے لئے ‘‘ اور’’بول ‘‘میں بھی سماجی مسائل

کو بہت خوبی سے اجاگر کیا گیا تھا۔ دونوں فلموں کی ریلیز کے طویل عرصے بعد شعیب منصورایک اور شاہکار فلم ’’ ورنہ ‘‘ کی شکل میں لے کر آرہے ہیں جس میں ماہرہ خان اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتی ہوئی نظرآئیں گی۔ فلم کا موضوع کافی بولڈ لیکن حقیقت پر مبنی ہے۔ہمارے سماج میں خواتین کے ساتھ زیادتی کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں مانا جاتا جتنا بڑا مسئلہ اس موضوع پر بات کرنا ہوتا ہے۔ لوگ زیادتی جیسے موضوعات پر بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ لیکن شعیب منصور نے بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے اس موضوع پرفلم بناڈالی۔ شائقین شعیب منصوراور ماہرہ خان کو ان کی دلیری پر سراہا رہے ہیںجبکہ سنسر بورڈ فلم پر پابندی عائد کرنے کاسوچ رہاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کا بولڈ موضوع سندھ بورڈ آف فلم سنسرکو پسند نہیں آیا۔ ایس بی ایف سی کے جنرل سیکرٹری عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ فلم کا موضوع پریشان کن ہے جبکہ کہانی میں خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو گورنر کا بیٹا دکھایا گیا ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ فلم پر مکمل طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ نہیں کیا جارہا بلکہ انہیں فلم کے کچھ سینزپرتحفظات ہیں جنہیں ٹھیک اور سنسر کیے جانے کے بعد فلم ریلیز کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ فلم کو ابھی تک ایس بی ایف سی کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں ملا ہے اور ہم سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز اسلام آبادکے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔ دوسری جانب سی بی ایف سی کے چیئرمین مبشر حسن

کا کہنا ہے کہ فلم ریلیز سے قبل بورڈ کے ممبران کو دکھائی جائے گی جس کے بعد فلم پر بابندی لگانے یا نہ لگانے کا فیصلہ کیا جائے گا ہم جلد ہی فلم کے بارے میں اپنا حتمی فیصلہ سنائیں گے۔واضح رہے کہ سنسربورڈ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فلم کی ریلیزمیں صرف 3 روز باقی ہیں اورفلم میں شامل تمام فنکار خاص طور پر ماہرہ خان زوروشورسے فلم کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ فلم رواں ماہ 17 تاریخ کو سینما کی زینت بنے گی۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…