جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

مراکش نے مٹی کی اینٹوں سے پانی کا کم خرچ فلٹر تیار کرلیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مراکش کے ماہرین نے پتھروں اور مٹی کی تہوں پر مشتمل ایک سادہ اور کم خرچ واٹر فلٹر تیار کیا ہے جو گھروں سے خارج ہونے والے گندے پانی کو صاف کرکے کم ازکم اسے زراعت کے قابل بناسکتا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے اس کا پہلا نمونہ الہوز نامی ایک گاؤں میں آزمایا تو اس نے ایک مؤثر چھلنی کا کام

کرتے ہوئے آلودگی کے ٹھوس ذرات، نامیاتی گند، نائٹروجن اور فرٹیلائزر کے ذرات بھی روک لیے۔ سب سے اچھی بات یہ کہ فلٹر کولیفورم بیکٹیریا اور دیگر جراثیم ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی فضلے کے ذرات اور ایک اسٹریپٹوکوکائی بیکٹیریا اور ای کولائی بیکٹیریا بھی اس سے ختم ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس پر لاگت دیگر نظاموں سے بھی کم ہے۔ یہ فلٹر دو مرحلوں میں پانی صاف کرتا ہے۔ پہلے سائنسدانوں نے ریت، چارکول، لکڑی کے برادے اور لوہے کا چورا ملاکر اس کی اینٹیں بنائیں۔ اگلے مرحلے میں ایک برتن میں چھوٹے کنکر رکھے گئے اور انہیں تہہ در تہہ رکھا گیا یعنی اینٹ پھر کنکر ، پھر اینٹ اور پھر کنکر اور یوں کئی سطحوں سے پانی کو گزرنا پڑا۔ اس کی تحقیقات 13 اکتوبر کو انٹرنیشنل جرنل آف ہائیجن اینڈ اینوائرنمینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی ہیں۔ اس فلٹر کو مراکش کی سعدی ایاد یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے جن کی سربراہ لیلیٰ مندی ہیں۔ لیلیٰ نے کہا کہ اگرچہ اینٹیں ازخود پانی صاف کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہیں لیکن پتھروں کی مدد سے یہ فلٹر مزید مؤثر ہوجاتا ہے اور جراثیم اور گندگی اچھی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس فلٹر کو صاف کرنا بہت آسان ہے جسے چلانے کے لیے کسی قسم کی بجلی درکار نہیں ہوتی۔ ایک فلٹر 20 سال تک کے لیے کارآمد رہتا ہے۔ یہ نظام شمالی افریقہ اور ایشیائی خشک علاقوں کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جہاں پانی ناپید ہے اور

آلودہ پانی سے ہی فصلیں سیراب کی جاتی ہیں۔ تجرباتی طور پر ماہرین نے 8 گھروں کے 72 افراد سے آلودہ پانی لیا اور اسے پانی کی ٹنکی میں رکھا اور کچھ دیر بعد اسے فلٹر سے گزارا۔ فلٹرسے گزرنے کے بعد پانی سے 90 فیصد آلودگیاں ختم ہوگئیں جبکہ نائٹروجن اور مصنوعی کھاد وغیرہ کی مقدار 95 فیصد تک کم ہوگئی ۔ اب یہ پانی قابلِ نوش نہیں لیکن اسے زراعت کے لیے

ضرور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم لیلیٰ کہتی ہیں کہ اگر اسے کلورین کے عمل اور الٹراوائلٹ روشنیوں سے گزارا جائے تو شاید یہ پانی قابلِ نوش بھی ہوسکتا ہے۔ دیگر ماہرین نے کہا ہے کہ یہ فلٹر پانی میں موجود بھاری دھاتوں کو صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اسی بنا پر اس کا پانی پینے کے قابل نہیں جبکہ الجی کی وجہ سے فلٹر کو بار بار صاف کیا جانا بھی ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…