اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

لندن کے ٹیکسی ڈرائیوروں نےپاکستان کے خلاف بھیانک سازش ناکام بنادی، بھارتی لابی منہ دیکھتی رہ گئی

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لندن میں پاکستان مخالف بینرز پر برطانوی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان مخالف مہم پر تشویش کا اظہار۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو کو سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے دفتر خارجہ طلب کیا۔

برطانوی ہائی کمشنر کی طلبی کے دوران لندن میں پاکستان مخالف بینرز پر اظہار تشویش کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر کو کہا گیا کہ پاکستان کو بدنیتی پر مبنی مہم کے ذریعے مکروہ عزائم کا علم ہے۔ بدنیتی پر مبنی مہم کے لیے دوست ملک کی سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔بعد ازاں برطانوی ادارے نے پاکستان ہائی کمیشن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے لندن ٹرانسپورٹ سے پاکستان مخالف اشتہارات ہٹادیئے، ٹی ایف ایل نے سازشی عناصر کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل بلوچستان کی کالعدم دہشت گرد جماعتوں کے سرغنہ اور سرپرست حربیار مری اور براہمداغ بگٹی کی جانب سے لندن میں کچھ ٹیکسیوں پر آزاد بلوچستان کے بینرز آویزاں کردیئے گئے۔بینرز پر لندن میں مقیم پاکستانی برادری شدید غم و غصے میں مبتلا ہوگئی اور ٹیکسی ڈرائیورز جن میں اکثریت پاکستانیوں کی شامل ہے، نے شدید احتجاج کیا۔مظاہرین نے برطانیہ کی حکومت سے ایسے نفرت آمیز اقدامات کرنے پر براہمداغ اور حربیار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیاہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی ایما اور سپورٹ پر براہمداغ اور حیربیار مری جنیوا میں بھی اسی قسم کی حرکت کر چکے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…