جنیوا (نیوزڈیسک) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بدھ پندرہ مارچ سے دنیا بھر سے اپنی نئی ایجادات کے ساتھ آنے والے سینکڑوں موجدوں کا سالانہ میلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سال اس عالمی نمائش کی خاص بات ایک ایسی وہیل چیئر ہے جو سیڑھیاں چڑھ سکتی ہے۔جنیوا سے موصولہ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ بین الاقوامی نمائش دنیا بھر میں اپنے نوعیت کا سب سے بڑا میلہ ہے اور اس سال اس اجتماع کا انعقاد 43 ویں مرتبہ کیا جا رہا ہے۔ موجدوں کا میلہ یا جرمن زبان میں Erfindermesse کہلانے والی اس عالمی نمائش میں اس مرتبہ 48 ملکوں کے 752 نمائش کنندگان حصہ لے رہے ہیں۔اس میلے میں تخلیقی ذہن یا سوچ کے حامل کسی بھی فرد یا ادارے کی شرکت کے لیے شرط یہ ہوتی ہے کہ وہ اختراعی نظریات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنی کوئی ایسی نئی ایجاد لے کر جنیوا آئیں، جو انسانی زندگی کو زیادہ آسان یا مزید خوبصورت بنا سکتی ہو۔ اتوار انیس مارچ تک جاری رہنے والی اس نمائش میں آج سے جو نئی مصنوعات ہزاروں شائقین اور ماہرین کی بھرپور دلچسپی کی وجہ بنی ہوئی ہیں، ان میں انتہائی کم وزن والا ایک نیا الٹرا لائٹ ہوائی جہاز اور مختلف عمارتوں کو زلزلوں سے محفوظ بنانے کے ایک نئے طریقہ کار کے علاوہ ایک ایسی وہیل چیئر بھی شامل ہے، جو سیڑھیاں چڑھ سکتی ہے۔ اس وہیل چیئر کی مدد سے معذور افراد اس میں بیٹھے بیٹھے ہی سیڑھیاں چڑھ سکیں گے۔امسالہ نمائش میں 48 ملکوں کے 752 نمائش کنندگان حصہ لے رہے ہیں۔اس عالمی نمائش میں نئی مصنوعات تیار کرنے والے موجد انفرادی طور پر بھی شریک ہوتے ہیں اور بہت سے کاروباری ادارے، یونیورسٹیاں اور سرکاری محکمے بھی اپنے نت نئے خیالات اور ان کے عملی نتائج کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ اس سال جنیوا کی اس نمائش میں جرمنی سے 14 شرکت کنندگان حصہ لے رہے ہیں۔جنیوا کی اس عالمی نمائش کے اکثر شرکت کنندگان کو امید ہے کہ وہ آئندہ اتوار کے دن تک مختلف سرمایہ کار اداروں کے ساتھ اپنی ایجادات کے تجارتی پیداواری لائسنسوں سے متعلق معاہدے طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ نمائش کی انتظامیہ کے مطابق اس اجتماع میں ہر سال طے پانے والے لائسنسوں سے متعلق تجارتی معاہدوں کی مالیت قریب 50 ملین یورو رہتی ہے۔اس عالمی میلے کی سرپرستی سوئٹزرلینڈ کی حکومت اور جنیوا میں قائم فکری املاک کی عالمی تنظیم کرتی ہیںڈی پی اے کے مطابق اس میلے میں شریک موجدوں میں سے قریب نصف کا تعلق مختلف ایشیائی ملکوں سے ہے، جن میں چینی شرکت کنندگان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 45 فیصد شرکت کنندگان کا تعلق یورپ کے مختلف ملکوں سے ہے۔اس عالمی میلے کے انعقاد کی سرپرستی سوئٹزرلینڈ کی حکومت اور جنیوا میں قائم فکری املاک کی عالمی تنظیم یا ورلڈ اِنٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن WIPO کی طرف سے کی جاتی ہے۔ منتظمین کے مطابق امسالہ عالمی میلے کو دیکھنے کے لیے 60 ہزار کے قریب مہمان آئیں گے، جن میں سے 40 فیصد کا تعلق مختلف شعبوں کی ماہر کاروباری شخصیات سے ہو گا۔
نئی ایجادات کے عالمی میلے میں سیڑھیاں چڑھنے والی وہیل چیئر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
اواتار مائونٹین
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
بجلی کے بل نے شہری کا راز فاش کر دیا، فلیٹ میں 300 اژدہے پالنے پر گرفتار
-
سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
دورانِ شاپنگ ماں بچوں کو گاڑی میں بھول گئی، شدید گرمی سے 2 کمسن بہن بھائی ہلاک
-
عوام کو جلد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری ملنے والی ہے، بڑا اعلان
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مزید گر گئی، سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی
-
سرگودھا میں شہریوں نے کمسن بچی کے قاتل کو قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت نہ دی
-
25 لڑکیوں کی خفیہ ریکارڈنگ اور بلیک میلنگ، قصور سے چونکا دینے والا سکینڈل سامنے آگیا
-
سلمان خان کی24 سال قبل دیا مرزا سے کی گئی انوکھی پیشگوئی
-
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تاریخ میں پہلی بار رن وے پر مسافروں کا دھرنا



















































