اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

ایسا کام جس کے کرنے پر چین میںکسی بھی عورت کو سزائے موت دیدی جاتی ہے مگر پاکستان میں اس جرم کے کرنے والے آزاد گھوم پھر رہے ہوتے ہیں،یہ کونسا کام ہے

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

مشہور سینئیر کالم نگارنذیر ناجی نے اپنے ایک کالم میں بچے اغوا کرکے فروخت کرنے والی عورت کی پھانسی کا ماجرہ بیان کیا تھا کہ کس طرح مجرم عورت کومنٹوں میں انجام تک پہنچا دیا گیا ۔وہ لکھتے ہیں’’ چند روز پہلے میں نے چین کے ایک نیٹ ورک پر ایک مجرم خاتون کو سزا ملتے ہوئے دیکھی۔ وہ ایک وسیع و عریض عمارت کے دروازے سے‘ ایک بندھی بندھائی

خوبصورت خاتون کو‘ دھکے دیتے ہوئے دروازے سے باہر لاتے ہیں۔ د ونوں طرف کے سپاہیوں نے اس کے ہاتھ پکڑ رکھے ہیں جو کہ پشت کی طرف کر کے باندھے گئے ہیں۔ اسی طرح رسی ڈھیلی چھوڑ کے‘ اس کے پاؤں باندھے گئے ہیں تاکہ اسے زبردستی گھسیٹا جاسکے لیکن کون بدنصیب ایسا ہوسکتا ہے جو بندھے ہوئے ٹخنوں کے ساتھ لمبے لمبے قدم اٹھا سکے چنانچہ اسے گھسیٹنا پڑتا ہے۔ آخر میں جہاں برآمدہ ختم ہوتا ہے‘اس کے سامنے ایک چھوٹے صحن میں لا کر اسے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ایک مرد اس کے عقب سے نکلتا ہے اور جہاں جہاں سے اس کا جسم باندھا گیا تھا‘ اسے کھول دیا جاتا ہے۔ ہاتھ اور پاؤں پکڑ کے‘ اسے بٹھا دیا جاتا ہے۔اس کے سر کے عقب میں کھوپڑی کے اوپر ‘پستول کی نالی رکھ کے گولی چلا دی جاتی ہے۔ یہ بد قسمت خاتون جس کی عمر زیادہ نہیں‘اسے سزائے موت اتنی نفاست سے دی جاتی ہے کہ اس کے گرد لپٹی ہوئی ‘چادر کے اندر سے‘ خون کا ایک قطرہ تک نہیں گرتا۔ کیا نفاست ہے؟حکام اسے فرش پر بے یارو مددگار تڑپنے اور جان دینے کے لئے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ بعد میں ظاہر ہے کوئی دوسری فورس ہو گی جو اس خاتون کی لاش کوٹھکانے لگا دیتی ہو۔ جب سے یہ سب کچھ دیکھاہے۔ میں یہ سوچ کے لرز جاتا ہوں کہ ہمارے ملک کے جو حکا م ‘ ٹھیکیدار‘ یا بیوپاری‘ چینیوں کے ساتھ

کوئی بے ایمانی کرتے ہیں تو انہیں سزا کیسے دی جا تی ہو گی؟یاد رہے جس چینی خاتون کو کیمرے کے سامنے سزائے موت دی گئی ‘ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ چھوٹے بچوں کو اٹھا کر فروخت کرتی تھی۔ ‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…