بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

صدارتی انتخاب میں جعلی خبریں، فیس بک میں چھان بین کا آغاز

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) فیس بک کے مالک مارک زکربرگ نے امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں کردار ادا کرنے کی تردید کی ہے لیکن کمپنی میں اس بات کی چھان بین کی جا رہی ہے کہ کیسے فیس بک پر جعلی خبریں پھیلیں۔’بز فیڈ نیوز’ کا کہنا ہے کہ فیس بک کے ‘درجنوں ملازمین’ کو غیر

اعلانیہ طور پر یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں۔ فیس بک کے ایک ملازم نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ‘مارک زکربرگ جانتے ہیں اور کمپنی میں موجود ہم لوگ جانتے ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران جعلی خبریں ہمارے پلیٹ فارم پربہت زیادہ شیئر کی گئیں۔‘ بز فیڈ نیوز کی رپورٹ کے بارے میں فیس بک نے بی بی سی کو کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب گوگل نے کہا ہے کہ وہ جعلی نیوز کی ویب سائٹس کی روک تھام کے لیے زیادہ اقدامات کرے گا تاکہ وہ اشتہارات کے ذریعے رقم نہ کما سکیں۔ اس سے پہلے فیس بک نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ ان کے پلیٹ فارم کے ذریعے صدارتی انتخاب سے قبل جعلی خبریں پھیلائی گئی ہیں۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس تنقید کا بھرپور دفاع کیا ہے کہ فیس بک پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مدد ملی تھی۔ مارک زکربرگ نے اس بات پر کہ فیس بک پر جعلی خبریں ایک اہم مسئلہ ہے، کافی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے اپنے پروفائل پر فیس بک پر کی جانے والی تنقید کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ ‘فیس بک کا 99 فیصد مواد ایسا ہے جسے لوگ تصدیق شدہ سمجھتے ہیں۔بہت ہی کم مواد جعلی ہے۔ دھوکہ دہی اور فریب پر مبنی مواد بھی ہے لیکن وہ کسی ایک پارٹی کی حمایت میں نہیں ہے اور نہ ہی سیاست کے بارے میں ہے۔’ مارک زکربرگ نے کہا کہ

‘یہ بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ کہ دھوکہ دہی پر مبنی مواد انتخابات کا رخ موڑ دیں۔’ اس سے قبل رواں سال مئی میں فیس بک پر تنقید کی گئئ تھی کہ مبینہ ایڈیٹر ٹرمپ کی حمایتی خبروں کو فیس بک کے ٹرینڈنگ عنوانات میں اوپر لے جاتے ہیں۔ فیس بک نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور اپنی غیر جانبداریت کا مظاہرے کرنے کے لیے انسانی ایڈیٹرز کو ختم کر دیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…