جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

’’شرم کرو بھارتیو!پاکستانیوں سے ہی کچھ سبق سیکھ لو‘‘ اذان کے بعد سونو نگم نے بھارتی ترانے کو نشانہ بنا ڈالا

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف بھارتی گلوکار سونو نگم کا کیرئیر گزشتہ کافی عرصے سے زوال کی جانب گامزن ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے نہ ان کا کوئی البم آیا ہے اور نہ ہی وہ کسی فلم میں گلوکاری کرتے نظر آئے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی میڈیا میں انہیں ایک ناکام گلوکار قراردیا جارہا ہے جس کا کیرئیر ختم ہوچکا ہے۔خبروں میں بنے رہنے کے لیےسونو نگم بھی ان

دنوں متنازعہ بیانات دیتے نظر آتے ہیں، ماضی قریب میں انہوں نے ذان مخالف بیان دے کر بھارت سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذباتوں کو مجروح کیا تھا۔ ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا ہواہی تھا کہ سونونگم ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس بھارتی سپریم کورٹ نے سینما گھروں میں فلموں کی نمائش سے قبل قومی ترانہ لازمی بجانے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم تین روز قبل عدالت کےاس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران کہا گیا کہ سینما میں فلم کی نمائش سے قبل لوگوں کو اپنی حب الوطنی ظاہر کرنے کے لیے قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران کھڑے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر کوئی شخص قومی ترانہ بجنے کے دوران کھڑا نہیں ہوتا تو وہ محب وطن نہیں ۔ عدالت کے اس فیصلے پر گزشتہ روزگلوکار سونونگم نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں تمام لوگ اپنے قومی ترانے کی بےحد عزت کرتے ہیں، پاکستانی قومی ترانہ کہیں بھی بجایا جاتا ہے تو تمام پاکستانی اس کے احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں لہٰذا ہمیں پاکستان سے سبق سیکھنا چاہئے اور اپنے قومی ترانے کی بالکل اُسی طرح عزت کرنی چاہئےجیسے پاکستانی کرتے ہیں اور اس کے احترام میں کھڑا ہونا چاہئے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہاں بہت سارے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ

سینما ہال میں قومی ترانہ بجنا چاہئے جب کہ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں بجنا چاہئے، تاہم قومی ترانے کا معاملہ انتہائی حساس ہےاور مجھے نہیں لگتا کہ اسے سینما ہال اورریسٹورنٹ وغیرہ میں بجانا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…