اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

رالڈ ڈیل کا والدین کے نام حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت پر ایک جذباتی خط

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک ) برطانوی ناول نگار و شاعر رالڈ ڈیل کو اس دنیا سے رخصت ہوئے پچیس برس سے زائد ہوئے تاہم ان کی کتابیں آج بھی بچوں کیلئے بے حد کشش رکھتی ہیں تاہم رالڈ ڈیل کا برطانوی والدین کے نام ایک خط ان دنوں ایک بار پھر مقبول ہورہا ہے۔ دراصل اس خط میں رالڈ ڈیل نے والدین کو نصیحت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خسرہ اور دیگر مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔ ان دونوں چونکہ خسرہ کی وبا ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے اس لئے اس خط کو دوبارہ مقبول بنایا جارہا ہے تاکہ والدین اسے پڑھیں اور پھر اپنے بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کا ٹیکہ لگوانے سے احتراز نہ برتیں۔ دراصل رالڈ نے اپنی سب سے لاڈلی اور پہلوٹھی کی اولاد اولیویا کو1962میں پھوٹنے والی خسرہ کی وبا کے باعث کھو دیا تھا۔ اس وقت یہ ویکسین ایجاد بھی نہ ہوئی تھی ۔ اس حادثے کے28برس بعد رالڈ نے سینڈویل ہیلتھ اتھارٹی کیلئے والدین کے نام ایک خط تحریر کیا جس میں ان پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں جو کہ انہیں میئسر نہ آسکا اور اپنے بچوں کو ان مہلک بیماریوں سے بچائیں ۔
رالڈ خط کے آغاز میں اپنی پیاری بیٹی سے اپنے تعلقات کی نوعیت کو بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح اسے سکول کی اپنی ساتھی سے خسرہ کی بیماری لگی تھی۔ کچھ دن بعد جب اس کی طبیعت سنبھل رہی تھی اور رالڈ خوش تھے کہ وہ ٹھیک ہورہی ہے تو اس نے کہا کہ مجھے نیند آرہی ہے۔ یہ کہنے کے ایک گھنٹے بعد ہی وہ بیہوش ہوگئی اور بارہ گھنٹے بعد ہمیشہ کی نیند سو گئی۔ اس وقت ڈاکٹرز کے پاس خسرہ کی اس موذی قسم سے بچاؤ کیلئے کوئی ویکسین نہ تھی، مگر اب ہے۔ مگر 24 برس بعد آج بھی اگر کسی بچے کو خسرہ سے متاثر ہونے کے بعد ویسا ہی مہلک ری ایکشن ہوجائے جیسا کہ اولیویا کو ہوا تھا، تو اسے بھی شائد ڈاکٹرز کیلئے بچانا ویسا ہی ناممکن ہو جیسا کہ اولیویاکو بچانا ہو اتھا۔ مگر آج کے والدین خود کو اس المیئے سے بچانے کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، وہ اس امر پر زور دے سکتے ہیں کہ ان کا بچہ خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگوا چکا ہو۔1962میں خسرہ کیخلاف کوئی بھی قابل اعتبار ویکسین موجود نہ تھی لیکن آج یہ ہر خاندان کو دستیاب ہے اور آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ ڈاکٹر کو اس کا حکم دینا ہے کہ وہ یہ لگائے۔ آج تک یہ نہیں قبول کیا گیا کہ خسرہ خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔یقین مانیں کہ یہ ہے۔ ہر سال برطانیہ میں دس ہزار بچے خسرہ کی وجہ سے انفکشن کا شکار ہوتے ہیں، ان میں سے اکثریت کو سینے یا کان کا انفکشن ہوتا ہے جن میں سے کم از کم بیس مرجاتے ہیں۔ قوت مدافعت پیدا ہونے سے آپ کا بچہ کس خطرہ سے محفوظ ہوگا؟
تین لاکھ کی آبادی کے حامل ملک میں اڑھائی سو برس میں صرف ایک بچہ خسرہ کے خطرناک ترین اثرات کا شکار ہوگا۔ میرے خیال میں اگر آپ خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگواتے ہیں تو ایسے میں آپ کے بچے کو چاکلیٹ بار کے حلق میں پھنس جانے سے تو موت کاخطرہ زیادہ ہوگا بنسبت خسرہ سے شدید بیمار ہونے کے۔ دنیا کی کون سی چیز آپ کو پریشان کررہی ہے؟ یہ سچ مچ میں تقریباً ایک جرم ہے کہ بچے کو بنا ٹیکوں کے رہنے دیا جائے۔
رالڈ یہ خط لکھنے کے دو برس بعد ہی اپنی پیاری اولیویا کے پاس چلے گئے تھے مگر ان کا یہ خط آج بھی والدین کو اس درد سے روشناس کرواتا ہے جو ایک باپ کی حیثیت سے انہیں بیٹی کو کھونے پراٹھانا پڑا۔ اس درد کو محسوس کرنے والے فرد کیلئے تقریباً یہ ناممکن ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے سے محروم رکھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…