اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پردہِ بصارت کی بیماریاں اندھے پن کا باعث بنتی ہیں‘ ماہرین

datetime 18  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر عامر اعوان نے پردہِ بصارت کے امراض پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آنکھ کے پردے کے مسائل کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو بینائی ضائع ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ¾ ذیابیطس ےا شوگر کے مریضوں میں آنکھ کے پردے کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کواپنی آنکھوں کی زیادہ حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں سال میں کم از کم دو مرتبہ آنکھوں کا باقاعدہ معائنہ کروانا چاہیے۔ سیمینار میں ملک بھر سے آنکھوں کے سرجنز اور معالجین نے شرکت کی۔سیمینار کی صدارت شفاکے کنسلٹنٹ پروفیسر فاروق افضل نے کی۔ انہوںنے مہمانوں کا تعارف کروایا اور اپنے ابتدائی کلمات میںشرکائ کو سیمینار کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ سیمینار سے شہزادآئی ہسپتال‘ کراچی سے آئے ہوئے ڈاکٹر رحمان صدیقی‘ماہر امراض چشم نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر عامر اعوان نے بتایا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں آنکھ کے اندر خون بہنے کا مرض بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پردہِ بصارت کا اکھڑ جانابھی ایک خطرناک بیماری ہے۔ ان امراض سے بینائی کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اگر آنکھوں میں درد بڑھ جائے، ترمرے یا چیزیں تیرتی ہوئی نظر آئیں تو فوراً آنکھوں کے معالج سے معائنہ کروانا چاہیے۔ ڈاکٹر عامر نے اس بات پر زور دیا کہ آنکھوں کا معائنہ ہر چھ ماہ میں کروانا چاہیے تاکہ ذیابیطس کی وجہ سے آنکھوں کی بیماریاں لاحق ہونے کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…