منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جینز پہننا ملالہ یوسف زئی کو مہنگا پڑ گیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

لندن(این این آئی) نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی حال ہی میں جاری ہونے والی تصویر جس میں وہ جینز پہنے ہوئے نظرآرہی ہیں کوسوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔امن کا عالمی انعام اپنے نام کرنے والی پاکستانی خاتون ملالہ یوسفزئی نے حال ہی میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخل ہونے کی خبر ٹوئٹر پر شیئر کی تھی۔ ملالہ نے لکھا تھا کہ 5 سال قبل میں خود کو خواتین کی تعلیم کیلئے آواز اٹھانے سے روک نہیں سکی تھی

اور آج میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنے پہلے لیکچر میں شرکت کررہی ہوں۔ لوگوں نے ملالہ کوآکسفورڈ جیسے بہترین تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے پر مبارکباد دی تھی تاہم ملالہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر جاری ہونیوالی تصویر کے باعث شدید تنقید کی زد میں آگئیں، تصویر میں ملالہ جینز پہنے ہوئے نظر آرہی ہیں تاہم ان کا سر ڈوپٹے سے ڈھکاہوا ہے، ملالہ کے لباس پرایک صارف نے تنقیدی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس لباس کے بعد ملالہ پاکستانیوں کا نیا موضوع بن گئی ہیں۔ایک صارف نے ملالہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ملالہ کہتی ہیں کہ وہ پاکستان سے محبت کرتی ہیں لیکن وہ تو باہر کے ملک میں زندگی کے مزے لے رہی ہیں۔ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی گولیاں ماردو، مجھے بھی پروفیسر بننا ہے یہاں گھروں کے گھر اجڑ گئے دہشت گردی میں، جبکہ ایک صارف نے یہاں تک کہہ دیا’’ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملالہ کب پوری طرح مغربی رنگ میں رنگ جاتی ہیں‘‘۔کچھ لوگوں نے ملالہ کے لباس پراعتراض کرنے کے بجائے انہیں سپورٹ کیا اور لکھا ملالہ برطانیہ میں جو بھی لباس پہنتی ہیں وہ پاکستان میں بہت عام ہے لہٰذا ان کے لباس پر تنقید کرنابند کی جائے، لوگوں کو زندگی ان کے معیار کے مطابق جینے دیں۔ایک اور صارف نے لکھا کہ اب ہماری قوم ملالہ کے لباس پر تنقید کرنے میں مصروف ہوجائے گی، مہربانی کرکے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…