منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید رشید نے اربوں روپے کیسے بنائے؟کوٹھیاں اور محلات بطور تحفہ کس نے دیئے؟بات سپریم کورٹ تک پہنچ گئی

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ممتاز راہنما سابق رکن قومی اسمبلی ملک شکیل اعوان نے کہا ہے کہ دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگاکر اور ’’ طوطا فال ‘‘ کے ذریعے سال بھر مختلف تاریخیں دے کر جھوٹی شہرت پانے میں ماہر شیخ رشید میں اگر ’’ رتی برابر ‘‘ بھی سچائی یا دیانتداری ہوتی تو گزشتہ تین سال سے سپریم کورٹ میں دائر میرے مقدمہ کا سامنا کرتے جس میں میں نے ثابت کیا ہے کہ شیخ رشید نے

پرویز مشرف دور حکومت میں وفاقی وزیر اور پرویز مشرف کا ترجمان رہ کر اربوں روپے کی جائیدادیں بنائی اور بڑے بڑے کاروباری لوگوں سے ’ بھتہ‘ کی صورت میں کوٹھیاں اور محلات بطور تحفہ وصول کرتا رہا ہے ۔ میڈیا کے سامنے اپنے آپ کو بہترین وکیل ظاہر کرنے اور سپریم کورٹ کے ججوں سے داد وصول کرنے کا دعویدار میرے دائر مقدمہ میں نہ صرف بہت سے وکیل تبدیل کر چکا ہے بلکہ جب سپریم کورٹ میں تاریخ نکلتی ہے وکیل نہ ہونے اور کسی فوتگی یا بیماری کا بہانہ تراش کر مجھ سے منہ چھپاتا ہے ۔ میری چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ 1985ء کی اسمبلی کا رکن بننے سے پہلے ایک سائیکل سوار شیخ رشید آج اربوں روپے کی جائیدادوں اور بینک بیلنس کے مالک بنے والے شخص کیخلاف میرے دائر مقدمہ کی فوری سما عت کا حکم دیں تاکہ قوم چور اور چوکیدار میں فرق محسوس کر سکے ۔انہوں نے کہا کہ  ’’ طوطا فال ‘‘ کے ذریعے سال بھر مختلف تاریخیں دے کر جھوٹی شہرت پانے میں ماہر شیخ رشید میں اگر ’’ رتی برابر ‘‘ بھی سچائی یا دیانتداری ہوتی تو گزشتہ تین سال سے سپریم کورٹ میں دائر میرے مقدمہ کا سامنا کرتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…