اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

آج دنیا بھر میں ہیموفیلیاکا عالمی دن منایا جارہا ہے

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک (نیوز ڈیسک )ہیمو فیلیا خون کی بیماریوں کی ایک ایسی قسم ہے جس میں انسان کے جسم سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر کسی بھی طور رکتا نہیں۔ اس مرض کے مریضوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے، جس کے حوالے سے آج پوری دنیا میں شعور اجاگر کرنے کا دن منایا جارہا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ خون سے متعلق بیماریوں میں سے جو جو دریافت ہوئیں، ان میں سے ایک ہیموفیلیا بھی ہے، جس میں مبتلا مریضوں کو چوٹ لگ جائے تو ان کا خون نہیں رکتا اور انہیں زندہ رہنے کے لئے خون سے لئے گئے، پلازمہ کے لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس بیماری کے متاثرین میں ایسے پروٹین کی کمی واقع ہوجاتی ہے، جو خون جمانے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مرض میں مبتلا افراد کو معمولی چوٹ یا زخم لگ جانے کی صورت میں خون بہنے لگتا ہے اور وہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ ماہرین کے پاس دستیاب ریکارڈ کے مطابق ہیموفیلیا کے دنیا بھرمیں مریضوں کی تعداد چار لاکھ، پاکستان میں 18 ہزار، جبکہ خیبرپختونخوا میں چھ سو سے زائد ہے۔ ہیموفیلیا کا تعلق بھی ان بیماریوں سے ہے جو لوگوں میں شعور کی کمی کی وجہ سے لگ جاتی ہیں، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر وہ علاج نہیں بھی دے رہی تو شعور دینے کا کام ضرور کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…