اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سمارٹ فون کے ذریعے کینسر کی تشخیص

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

بوسٹن(نیوز ڈیسک )سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک جدید انسٹرومنٹ آپ کے اسمارٹ کو کینسر کا پتہ لگانے والے سستے ذریعے میں بدل سکتا ہے. اس کی مدد سے محض ایک گھنٹے میں آپ کے جسم میں کینسر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ڈی 3‘ (ڈیجیٹل ڈفرکشن ڈائیگونسس) نامی ایک امیجنگ ماڈیول جو بیٹری سے چلنے والی ایل ای ڈی لائٹ کے ساتھ عام اسمارٹ فون سے منسلک ہوتا ہے، یہ فون کے کیمرے کے ذریعے ہائی ریزولیوشن کے اعداد و شمار ریکارڈ کرتا ہے۔بوسٹن واقع میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے ریسرچرز جنہوں نے یہ انسٹرومنٹ تیار کیا ہے، کا کہنا ہے کہ روایتی مائکروسکوپ کے مقابلے یہ زیادہ طاقتور ہے۔ ڈی 3 نظام ایک تصویر میں ایک لاکھ سے زیادہ خون اور عمومی خلیات کا تجزیہ کر کے اعداد و شمار جمع کر سکتی ہے۔ٹیومر کے نیوکلیئر تجزیہ کے لیے خون یا ٹشوز کے نمونے کو مائیکروبڈز سے لیبل کیا جاتا ہے اور اسے ڈی 3 امیجنگ ماڈیول میں لوڈ کردیا جاتا ہے. مائی?روبڈز کینسر سے منسلک مالیکیولز کو باندھنے کا کام کرتے ہیں۔ڈی 3 ٹیسٹ کا نتیجہ ایک گھنٹے کے اندر اندر آ جاتا ہے اور اس میں محض 1.80 ڈالر فی ٹیسٹ خرچ آتا ہے۔اس نظام میں مزید بہتر ی پیدا کی جارہی ہے، جس کے بعد اس کے خرچ میں اور کمی کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…