منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’مجھے بتاؤ کہ ’’مجھے کیوں نکال رہے ہو؟؟‘‘ خورشید شاہ کے جمہوریت کے واسطے، عمران خان کو کیا کچھ کہہ ڈالا؟ شاہ محمود قریشی پر سنگین الزام عائد

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف بتائے کہ اپوزیشن لیڈر کو بدلنے کی وجہ کیا ہے ٗجن سے ووٹ مانگے جا رہے ہیں وہ بھی ان سے یہی سوال کر رہے ہیں۔اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے بات جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن ہماری اکثریت ماننے کو تیار نہیں۔بہانا کوئی اور ایجنڈا کوئی اور ہے۔ پی ٹی آئی کھل کر بات کرے ٗہم نے کبھی مک مکا نہیں کیا آئین کے مطابق مشاورت کی ہے۔

خورشید شاہ نے کہاکہ بار بار کہہ رہا ہوں سازش ان کے خلاف نہیں، عمران خان کے خلاف ہو رہی ہے ٗجمہوری آدمی ہوں کوئی فکر نہیں ٗعمران خان اپنی فکر کریں ٗ اکثریتی جماعت کو نہ ماننا نہ جمہوری ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی سیاسی۔خورشید شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد غیرفطری ہے چل نہیں سکتا۔انہوں نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کی نظر میری کرسی پر نہیں، عمران خان پر ہے۔ عمران خان کے پارلیمنٹ میں ہوتے ہوئے اپنے لیے لابنگ کر کے شاہ محمود قریشی اپنے قائد کی جگہ لینا چاہتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی سمجھتے ہیں وہ اپوزیشن لیڈر بن جائیں تو وزیراعظم کے امیدوار بھی بن سکتے ہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی بندہ اپنے پارٹی قائد کے ہوتے ہوئے بڑا عہدا کیسے مانگ سکتا ہے، بلاول نے قومی اسمبلی میں آنے کا اعلان کیا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر وہ ہوں گے۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے قائد حزب اختلاف کی اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت جاری ہے جبکہ اس حوالے سے میڈیا پر چلنے والے ناموں میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ عاشورہ کے بعد وہ مشاورت تیز کردیں گے، انہوں نے تحریک انصاف سے مشاورت کی ہے اور وزیراعظم سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمن نیب کے تقرر پر اتفاق نہ ہوا تو معاملہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا جہاں 6 ارکان حکومت کے اور 6 حزب اختلاف کے ہیں۔خورشید شاہد نے کہا کہ ابھی تک جماعت اسلامی کے علاوہ کسی طرف سے کوئی نام نہیں آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…