بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

’’مجھے بتاؤ کہ ’’مجھے کیوں نکال رہے ہو؟؟‘‘ خورشید شاہ کے جمہوریت کے واسطے، عمران خان کو کیا کچھ کہہ ڈالا؟ شاہ محمود قریشی پر سنگین الزام عائد

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف بتائے کہ اپوزیشن لیڈر کو بدلنے کی وجہ کیا ہے ٗجن سے ووٹ مانگے جا رہے ہیں وہ بھی ان سے یہی سوال کر رہے ہیں۔اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے بات جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن ہماری اکثریت ماننے کو تیار نہیں۔بہانا کوئی اور ایجنڈا کوئی اور ہے۔ پی ٹی آئی کھل کر بات کرے ٗہم نے کبھی مک مکا نہیں کیا آئین کے مطابق مشاورت کی ہے۔

خورشید شاہ نے کہاکہ بار بار کہہ رہا ہوں سازش ان کے خلاف نہیں، عمران خان کے خلاف ہو رہی ہے ٗجمہوری آدمی ہوں کوئی فکر نہیں ٗعمران خان اپنی فکر کریں ٗ اکثریتی جماعت کو نہ ماننا نہ جمہوری ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی سیاسی۔خورشید شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد غیرفطری ہے چل نہیں سکتا۔انہوں نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کی نظر میری کرسی پر نہیں، عمران خان پر ہے۔ عمران خان کے پارلیمنٹ میں ہوتے ہوئے اپنے لیے لابنگ کر کے شاہ محمود قریشی اپنے قائد کی جگہ لینا چاہتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی سمجھتے ہیں وہ اپوزیشن لیڈر بن جائیں تو وزیراعظم کے امیدوار بھی بن سکتے ہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی بندہ اپنے پارٹی قائد کے ہوتے ہوئے بڑا عہدا کیسے مانگ سکتا ہے، بلاول نے قومی اسمبلی میں آنے کا اعلان کیا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر وہ ہوں گے۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے قائد حزب اختلاف کی اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت جاری ہے جبکہ اس حوالے سے میڈیا پر چلنے والے ناموں میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ عاشورہ کے بعد وہ مشاورت تیز کردیں گے، انہوں نے تحریک انصاف سے مشاورت کی ہے اور وزیراعظم سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمن نیب کے تقرر پر اتفاق نہ ہوا تو معاملہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا جہاں 6 ارکان حکومت کے اور 6 حزب اختلاف کے ہیں۔خورشید شاہد نے کہا کہ ابھی تک جماعت اسلامی کے علاوہ کسی طرف سے کوئی نام نہیں آیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…