پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بینظیر بھٹو کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ قصہ ہی ختم۔۔پرویز مشرف کے بعد برطانوی وزیراعظم بھی بول پڑیں

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردی سے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنے نقصان کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا، ’اس سال اس خاتون کی دسویں برسی ہوگی جنہوں نے مجھے میرے شوہر سے متعارف کروایا اور جنہیں اس اقوام متحدہ میں موجود کئی لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں،بینظیر بھٹو کا بےدردی سے قتل ان افراد نے کیا جو ان تمام روایات کے

مخالف ہیں جن کے لیے ہم یہاں اقوام متحدہ میں موجود ہیں‘اب دہشت گردوں سے جوابی لڑائی لڑنے کا وقت آگیا ، برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب، بینـظیر بھٹو شہید کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا اعتراف۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردی سے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنے نقصان کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا ہے۔س سال اس خاتون کی دسویں برسی ہوگی جنہوں نے مجھے میرے شوہر سے متعارف کروایا اور جنہیں اس اقوام متحدہ میں موجود کئی لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں‘۔تھریسا مے کا کہنا تھا ’بینظیر بھٹو کا بےدردی سے قتل ان افراد نے کیا جو ان تمام روایات کے مخالف ہیں جن کے لیے ہم یہاں اقوام متحدہ میں موجود ہیں‘۔دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے والی بینظیر بھٹو کے دسمبر 2007 میں ایک دہشت گرد حملے میں قتل کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا‘۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معروف سیاسی رہنما کو ’دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے، رواداری کی وکالت کرنے اور خاتون ہونے پر قتل کیا گیا‘۔بینظیر بھٹو کے عزم اور

مضبوط ارادوں کو سراہتے ہوئے برطانوی رہنما نے خبردار کیا کہ دہشت گردی سے لڑنےکیلئے یہ صرف یہ کافی نہیں۔تھریسامےنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنے ملک کے کئی معصوم لوگوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے‘ تاہم اب دہشت گردوں سے جوابی لڑائی لڑنے کا وقت آگیا ہے۔پچھلی دہائی کے دوران دنیا بھر کے ہزاروں

افراد دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں، یہ ایک عالمی سانحہ ہے جو ہمارے زندگی کو متاثر کرتا چلا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…