اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ختنہ پاکستانی ٹریول انڈسٹری کے لیے سونے کی کان بن گیا، خلیجی ممالک میں ختنے پر کتنے لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور پاکستان میںیہ سہولت کتنے میں دستیاب ہے؟ دلچسپ رپورٹ‎

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو اپنے بچوں کے ختنوں کے لئے مجبورا پاکستان کا سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں انہیں اپنے بچے کے ختنے کی سرجری پر 29ہزار سے ایک لاکھ15ہزار روپے ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ پاکستان میں انہیں سرجری کی یہ سہولت چند سو روپے میں دستیاب ہوتی ہے۔خلیجی میڈیا کے مطابق اکثر پاکستانی والدین بچے کے ختنے پر ہونے والے بھاری اخراجات سے بچنے کیلئے پاکستان کا سفر کرتے ہیں۔

ابو ظہبی کے نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں ایک بچے کے ختنے پر اوسط لاگت ایک ہزار سے چار ہزار درہم آتی ہے۔والدین شکایت کرتے ہیں کہ اس طریقہ کار کے لئے اتنی بھاری رقم کا مطالبہ بہت زیادہ ہے، جب کہ اتنی معمولی سی سرجری ان کے اپنے ملک پاکستان میں چند سو روپے میں ہو جاتی ہے ۔متحدہ عرب امارات میں ایک ہیلتھ انشورنش کمپنی ختنے کی سرجری کی سہولت فراہم کرتی ہے، لیکن وہاں زیادہ تارکین وطن کے پاس اسکی ہیلتھ انشورنس نہیں ہے، متحدہ عرب امارات کے زیادہ ترمقامی افراد اپنے بچوں کے ختنے ہیلتھ انشورنس پالیسی کے تحت کراتے ہیں جہاں انہیں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا پڑتا۔ابو ظہبی میں مقیم منور علی کا کہنا تھا کہ یہ سرجری یہاں بہت مہنگی ہے ،لہذا میں نے اپنے تمام بچوں کی سرجری پاکستان سے کرائی۔ایک اور پاکستانی علی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک میں کلینک پر چند سو رپوے میں اس کی سرجری کرالیتے ہیں۔ایک بھارتی مسلمان کا کہنا تھا کہ اس نے شارجہ کے ایک کلینک سے 5سو درہم میں اپنے بچے کے ختنے کرائے۔ماہرین طب اس معاملے میں احتیاطی تدابیر کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں،یورالوجسٹ کا کہنا ہے اپنے بچوں کے ختنے کی سستی سرجری پر احتیاط سے کا م لیں یہ مہلک بھی ہوسکتا ہے۔عام طور پر نوزائیدہ کی معمولی سرجریوں پر دس سے بیس منٹ وقت لگتا ہے۔ ابو ظہبی کے یونیورسل ہسپتال کے ماہر یورولوجسٹ کا کہنا ہے کہ مسئلہ ختنے کرنے میں نہیں ہے، لیکن غلطی اس وقت ہوتی ہے جب بچے کا مناسب طریقے سے طبی مائنہ نہ کیا ہو۔کچھ صورتوں میں اگر بچہ انیمیا یا ہیموفیلیا میں مبتلا ہو اور اس صورت میں یہ سرجری کردی جائے تو اس وجہ سے بچے کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…