پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’کس نے برمی مسلمانوں کی کتنی مدد کی؟‘‘ اقرار الحسن اور وقار ذکا کے درمیان جھگڑا عروج پر

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی عروج پر ہے اور عالم اسلام کی بڑی تعداد بے حسی سے اس کا مظاہرہ دیکھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے چند اینکرحضرات یہ بحث شروع کئے ہوئے ہیں کہ ان میں سے کس نے روہنگیا مسلمانوں کی زیادہ یا عملی مدد کی اور کون کراچی میں بیٹھ کر ہی

ٹی وی چینل کیلئے ریکارڈنگ کرتا رہا۔تفصیلات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی مدد کو لے کر نامور اینکر پرسن اقرار الحسن اور وقار ذکا کے مابین نوک جھوک ، زبانی کلامی جھگڑے تک جا پہنچی۔ اقرار الحسن کے ایک فین کی ٹویٹ سے معاملہ شروع ہوا جس میں فین نے اینکر پرسن کو توجہ دلائی کہ وقار ذکا انہیں برا بھلا کہہ رہا ہے۔ جواب میں اقرار الحسن نے اپنےفین سے کہا کہ وہ وقار ذکا کی عزت کرتے ہیں اس لیے کوئی جواب نہیں دیں گے، جو بھی ہے وقار ذکا ان کے سینئر ہیں اس لیے وہ دعا گو ہیں کہ اللہ وقار ذکا کو انسانیت کی مزید خدمت کا موقع دے۔اقرا ر الحسن نے اپنی ٹویٹ کی تو وقار ذکا نے جواب میں ایک اور ٹویٹ کر دی اور کہا کہ اقرارالحسن نے انہیں سمجھنے میں غلطی کی ہے، وہ اقرار الحسن کو اپنی پیروی پر سراہتے ہیں لیکن ساتھ ہی درخواست بھی کرتے ہیں کہ وہ صرف رپورٹنگ کرنے کی بجائے روہنگیا مسلمانوں کی عملی مدد کریں۔مذکورہ ٹویٹ کے بعد دونوں اپنی اپنی صفائیاں پیش کرنے لگے اورایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالنے کی کوشش کرتے رہے ۔ اس بحث کے دوران وقار ذکا نے تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ اقرار الحسن کبھی برما گئے ہی نہیں بلکہ کراچی میں ہی بیٹھ کر اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کر ر ہے ہیں۔ مذکورہ بحث کا اختتام اس بات پر ہوا کہ دونوں مل کر بیٹھیں گے اور پھر معاملات کو حل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…