جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں ڈینگی پھیلا نہیں بلکہ پھیلایاگیا ۔۔! انتہائی شرمناک طریقہ کار سامنے آگیا،چونکادینے والے انکشافات

datetime 20  ستمبر‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں پْرسرار بیماری پھیلانے کے لیے مچھر چھوڑے جانے کے انکشاف پر ہسپتال میں خوف ہراس پھیل گیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک خاندان کے کچھ افراد حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل ہوئے اور ان کے ہاتھوں میں تھیلے تھے،

جن میں مچھر موجود تھے۔بعد ازاں یہ رپورٹ سوشل میڈیا سے خبروں کی زینت بن گئی، اس حوالے سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل ڈائریکٹر سے رابطہ کیا گیا۔واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے میڈیکل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ ایک نوجوان تھیلے میں مچھر لے کر ہسپتال میں داخل ہوا تھا تاہم انہوں نے مذکورہ مچھروں کو ڈینگی پھیلانے والے مچھر قرار نہیں دیا۔انہوں نے بتایا کہ نوجوان کی بہن ڈینگی کے مرض میں مبتلا ہوئی تھی تاہم بعد ازاں وہ صحت یاب ہوگئی۔میڈیکل ڈائریکٹر نے بتایا کہ ہسپتال کے اسٹاف نے نوجوان کو پْر اسرار تھیلے کے ہمراہ پکڑ کر گارڈ کے حوالے کیا، جہاں 25 سالہ نوجوان سیف اللہ نے بتایا کہ وہ یہاں ان مچھروں کے بارے میں معلوم کرنے آیا تھا کہ آیا یہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر ہیں یا نہیں۔نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا یہ مچھر ڈینگی پھیلانے والے ہیں جبکہ اسے گاؤں میں کسی نے کہا تھا کہ اگر یہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر ہوئے تو اسے اس کی قیمت ادا کی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ واقعہ 18 ستمبر کا ہے اور نوجوان کا تعلق پیش پہاڑا سے بتایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…