پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خو ر شید شاہ کی بھی عہدے سے چھٹی

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کے لئے تحریک انصاف نے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کہ تحریک انصاف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بعد پیپلز پارٹی کے سید خورشید احمد شاہ کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدے سے

ہٹانے کے لئے سرگرم ہو گئی ہے اور اس ضمن میں مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے تحریک انصاف نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ قواعد کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کے اکثر ارکان کی حمایت کے حامل رکن کو قائد حزب اختلاف بنانے کے پابند ہیں۔ اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں میں پیپلز پارٹی کے 47، تحریک انصاف کے 32، ایم کیوایم پاکستان کے 24، جماعت اسلامی کے 4، مسلم لیگ (ق) کے 2، عوامی نیشنل پارٹی کے 2 اور دیگر 8 ارکان ہیں اور یہ کل تعداد 119بنتی ہے۔ تحریک انصاف اگر سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کو 60 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہو گی، تحریک انصاف اور ایم کیوایم پاکستان کے ارکان کی تعداد تو 56 بنتی ہے مگر ان دونوں جماعتوں کے 7 سے 9 ارکان عملاً پارٹیوں سے بغاوت کر چکے ہیں، جو اس عمل میں شریک نہیں ہونگے۔ اس طرح ان کی تعداد کم ہو کر 47 سے 49 تک رہ جاتی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے 2 اور دیگر 5 ارکان کی حمایت مل بھی جائے تو یہ تعداد 54 سے 56 بنتی ہے ۔دوسری جانب سید خورشید احمد شاہ کو پیپلزپارٹی کے 47، عوامی نیشنل پارٹی کے 2 اور دیگر 6 سے 7 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور یہ تعداد 55 سے 56 بنتی ہے۔ اس سارے عمل

میں سب سے زیادہ اہمیت جماعت اسلامی کے 4 ارکان کو حاصل ہو گی، جس گروپ کو جماعت اسلامی کی حمایت حاصل ملے گی وہ کامیاب ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…