ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بھارت چاہ بہار پورٹ کو جلد ازجلد مکمل کرے، افغانستان کا مطالبہ

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

کابل/نئی دہلی (این این آئی)افغانستان کے وزیر خارجہ نے بھارتی حکومت سے ایران کے چاہ بہار پورٹ کے تعمیراتی کام کو جلد مکمل کرنے کا کہا ہے جس کے ذریعے پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک تجارتی روٹ قائم کیا جاسکے گا۔مذکورہ پورٹ بھارت کو اس حوالے سے مدد فراہم کرے گا کہ وہ پاکستان کے بغیر سمندر کے ذریعے افغانستان کو اشیاء منتقل کرسکے، پاکستان اس وقت بھارت کو افغانستان میں تجارتی مال

کی منتقلی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت فراہم نہیں کررہا۔گذشتہ سال بھارت نے ایران کی چاہ بہار پورٹ کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اس منصوبے میں پورٹ سے منسلک روڈ اور ریل لائن بھی شامل ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق بھارت کی خارجہ امور کی وزیر سشما سوراج نے افغانستان کے اس مطالبے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پورٹ پر تعمیراتی کام تیز کیا جائے گا اور ہفتوں میں افغانستان کو چاہ بہار کے ذریعے گندم کی منتقلی شروع کردی جائے گی۔بھارت کے دورے پر موجود افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے بھارت سے جون میں دونوں ممالک کے درمیان متعارف کرائی گئی ایئر فریٹ کوریڈور میں توسیع کرنے کے لیے بھی کہا، جس کا مقصد انڈین مارکیٹس میں افغان اشیاء کی جلد منتقلی ہے۔سشما سوراج نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت اور افغانستان نے ’نئی تعمیراتی شراکت‘ کو مشترکہ طور پر منظور کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 100 نئے تعمیراتی منصوبوں پر فوری طور پر مشترکہ عمل درآمد کیا جائے گا۔سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت، کابل کو صاف پانی کی فراہمی، وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کے لیے سستے مکانات، چاریکار شہر کے لیے صاف پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک اور مزار شریف میں ایک پولی کلینک کے قیام کے

منصوبوں میں مدد فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ بھارت افغانستان میں انسانی صلاحتیں بڑھانے اور مہارت، خاص طور پر تعلیم، صحت، زراعت، توانائی، انتظامیہ اور وسائل سے متعلق بھی افغانستان کو مدد فراہم کرے گا۔اس موقع پر افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اپنی سیکیورٹی اور دفاع کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…