منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

میانمار میں روہنگیامسلمانوں کا قتل عام افغان طالبان حمایت میں کھل کر سامنے آگئے

datetime 5  ستمبر‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی )افغان طالبان نے میانمار میںروہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظلوم روہنگیا مسلمانوں کو مشکل کی اس گھڑی میں نہ بھولیں۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں میانمار میںروہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مظلوم روہنگیا مسلمانوں

کو مشکل کی اس گھڑی میں نہ بھولیں۔ہم برما کے مسلمانوں کی کیلئے آواز بلندکرنے والے اسلامی ممالک تنظیموں ،میڈیا اور انفرادی لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے کہتے ہیں وہ مدد کی اس گھڑی میں اپنے مظلوم بھائیوں کو نہ بھولیں۔طالبان نے اپنے بیان میں اسلامی ممالک سے کہا ہے کہ وہ برما کے مسلمانوں کے دفاع ،بچائو،حرمت اور انکی ہر قسم کی مدد کیلئے اپنی ذمہ دارایاں ادا کریں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقومی میڈیا برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کو صیح طریقے سے نہیں دکھا رہا اور نہ ہی ہیومین رائٹس واچ اس مسئلے کو سنجیدہ لے رہا ہے ۔ہماری نظر میں یہ نہ صرف غیر منصفانہ اور شرمناک ہے بلکہ یہ انسانیت اور انسانی ہم آہنگی کے متصادم ہے ۔واضح رہے کہ میانمار میں جاری پرتشدد کارروائیوں سے اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقریبا 87 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں سے راخائن میں لسانی اور مذہبی تنا رہا ہے لیکن حالیہ پرتشدد واقعات کی لہر سب سے بدتر ہے اور اس سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش میں کئی افراد دریا میں ڈوب کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔2012 میں بھی پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا مسلمان ہلاک اور لاکھوں ہجرت کرنے یا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔حال ہی میں پرتشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا عسکریت پسندوں نے پولیس چوکی پر حملہ کر کے 15 آفیشلز کو مارنے کے بعد کئی گاں جلا دیے تھے۔ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار پولیس اور لسانی راخائن بدھ گروہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…