جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

اللہ کی راہ میں قربانی کیلئے از خود لیٹ جانے والا حیرت انگیز بیل

datetime 1  ستمبر‬‮  2017 |

کامونکی(مانیٹرنگ ڈیسک) عیدالاضحیٰ کے موقع پر سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسلمانانِ عالم جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور کامونکی میں ایک گائے ایسی بھی ہے جو کہ قربانی کے لیے خود بخود لیٹ جاتی ہے۔عید الاضحیٰ قربانی کے ایک ایسی عظیم واقعے کی یادگار ہے جس کی تاریخ عالم میں نظیر ملنا ہے مشکل ہے‘ جب ایک عظیم باپ ا للہ کے حکم کی تکمیل میں اپنے عظیم بیٹے کی قربانی پیش کرنے کے لیے

بیت اللہ پہنچتا ہے۔جی ہاں یہ واقعہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ سے منسوب ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے اللہ کی راہ میں ذبح کررہے ہیں۔تین دن لگاتار ایک ہی خواب دیکھنے کے بعد حضرت ابراہیم اپنے پسر اسماعیل کو لیے اللہ کے گھر کی جانب بڑھے اور مخصوص مقام پر انہیں لٹا کر ان کے ہاتھ پیرباندھے اپنی آنکھوں میں پٹی باندھی اور ارادہ کیا کہ چھری حضرت اسماعیل کے گلے پررواں کردیں۔ایسے میں مشیت الہیٰ جوش میں آئی اور جنت سے ایک مینڈھا چلا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ چھری مینڈھے کے حلقوم پر چل گئی‘ اسی دن سے عرب میں قربانی کی سنت ابراہیمی جاری ہوئی جسے اسلام نے بے پناہ فضیلت دی۔قرآن نے اس واقعے کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ:اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما۔ پس ہم نے ان کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (اسمٰعیل) ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچے فرمایا اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں پس تم بھی غور کرلو کہ تمہارا کیا خیال ہے (اسمٰعیل نے بلا تردد) عرض کیا اے اباجان (پھردیر کیا ہے) جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے (جہاں تک میرا تعلق ہے) آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے (اللہ کا) حکم مان لیا اور

(ابراہیم نے) ان کو ماتھے کے بل لٹایا۔ اور ہم نے ان کو ندا دی کہ اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانا) یہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی (حضرت ابراہیم اس آزمائش میں پورا اترے) اور ہم نے ایک عظیم قربانی کو ان کا فدیہ (بنا) دیا۔(الصفت، 37 : 100 – 107)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…