جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

سہولت کاروں کو سزا ہوئی۔۔اصل قاتل تو یہ ہے؟ آصفہ بھٹو نے والدہ کا قاتل کسے قرار دیدیا

datetime 31  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)10سال بعد بھی انصاف کے منتظر ہیں، سہولت کاروں کو سزا ہوئی ، قاتل آج بھی باہر بیٹھا ہے، پرویز مشرف کو قانون کی گرفت میں نہ لایا گیا تو انصاف نہ ہونا تصور کیا جائے گا۔ آصفہ بھٹو کا بینظیر قتل کیس فیصلے پر ردعمل، سابق صدر پرویز مشرف

کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بینظیر بھٹو شہید کی بیٹی آصفہ بھٹو نے بینظیر قتل کیس فیصلے پر اپنے ردعمل میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ 10سال بعد بھی ہم انـصاف کے منتظر ہیں۔ بینـظیر قتل کیس کے فیصلے میں سہولت کاروں کو سزا ہوئی ہے اور قاتل آج بھی باہر بیٹھا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف سے جواب طلبی نہ کی گئی تو انصاف نہیں ہو گا۔ آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے جائے وقوعہ دھلوایا اور دروازے لاک کرادئیے تھے۔ دروازے بند ہونے سے بی بی محصور ہو گئی تھیں۔ واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے اڈیالہ جیل میں ساڑھے نو سال بعد بینظیر قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق سی پی او سعود عزیز اور ایس پی خرم اشفاق کو 17، 17سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قتل کیس میں گرفتار 5ملزمان کو بری کرتے ہوئے سابق صدر اور (ر)جنرل پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا، جج نے حکم دیا کہ پرویز مشرف کی جائیداد کی قرقی کیجائے۔ عدالت نے قتل کیس میں گرفتار پانچ ملزمان رفاقت ، حسنین ، رشید احمد، شیر زمان اور اعتزاز شاہ کو بری کرنے کا حکم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…