جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

عبد الباسط کے الزامات پراعزازچوہدری کا ردعمل سامنے آگیا،مخالفت کی اصل وجہ بتادی

datetime 30  اگست‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے سابق ہائی کمشنر عبد الباسط کے خط پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالباسط ریٹائر ہو چکے لیکن حسد کاکوئی علاج نہیں۔امریکا میں پاکستانی سفیراعزازچوہدری نے بھارت میں سابق ہائی کمشنرعبدالباسط کے خط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عبدالباسط کی غلط فہمی ہے کہ وہ میری وجہ سے سیکرٹری خارجہ نہ بن سکے،

عبدالباسط ریٹائر ہو چکے مگر حسد کا کوئی علاج نہیں ٗ میں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے ملک کی خدمت کی جبکہ میں نے چار قل اورسورۃ فلق پڑھ کر ان کا خط نظر اندازکردیا۔اعزازچوہدری نے کہا کہ عبدالباسط سمجھنے میں ناکام رہے کہ زندگی کوشش اورقسمت کے ملاپ کا نام ہے، دوسرے پرکیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا، زندگی نے جو ہمیں دیا اسے عاجزی سے قبول کر لینا چاہیے اور کئی ساتھیوں نے عبدالباسط کے ناروا رویہ کے خلاف اظہار افسوس کیا۔اعزازچودہری نے کہا کہ عبدالباسط ریٹائر ہو چکے لیکن حسد کاکوئی علاج نہیں عبدالباسط کا خط بدترین اورغیر واضح ہے، عبدالباسط کی غلط فہمی ہے کہ وہ میری وجہ سے سیکرٹری خارجہ نہ بن سکے، دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، عبدالباسط یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ زندگی کوشش اور قسمت کے ملاپ کا نام ہے عبدالباسط نے اب سوشل میڈیا کا سہارا لیا اس لئے خیالات سے آگاہ کرنا پڑا جبکہ میں نے اس خط پر کوئی ردعمل نہ دے کر معاملہ اللہ کے سپرد کردیاتھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزسابق ہائی کمشنرعبدالباسط کی جانب سے امریکا میں پاکستان کے سفیراعزازچوہدری کو لکھا گیا خط منظرعام پر آیا تھا جس میں انہوں نے اعزاز چوہدری کو ملک کا بدترین سیکرٹری خارجہ قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…