اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’10کروڑ نہ ہی 20کروڑ ‘‘ عید الاضحی پرقربانی کیلئے اِس بکری کوکتنے کروڑ روپے میں خریدا گیا، جان کر دنگ رہ جائیں گے

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عیدالاضحی کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق سنت ابراہیمیؑ کی ادائیگی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں ۔ اس موقع پر سب مسلمان اس مذہبی فریضے کی ادائیگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تاہم کچھ عرصے سے اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے دوران نمود و نمائش کا عنصر بھی دیکھنے میں آرہا ہےاور

ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ شروع کر دی جاتی ہے جس سے نہ صرف قربانی کی اصل روح متاثر ہو جاتی ہے بلکہ ایسی قربانی خدا کی بارگاہ میں مقبول بھی نہیں ہوتی۔ خوبصورت اور صحت مند جانوروں کی اللہ کی راہ میں قربانی کی خواہش تقریباََ ہر مسلمان کی ہی ہوتی ہے تاہم جزا وثواب کا فیصلہ رب تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ۔ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے ہی اصل سعادت ہے نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں ۔ اس بات کا فیصلہ رب تعالیٰ نے کرنا ہے کہ کس کی قربانی نمودونمائش کیلئے تھی اور کس نے خلوص نیت سے سنت ابراہیمی ؑ ادا کی۔ عیدالاضحی کے موقع پر خبر یہ ہے کہ ایک سعودی شہری نے قربانی کیلئے 13ملین سعودی ریال مالیت کی بکری خریدی ہے۔پاکستانی کرنسی میں اس بکری کی قیمت 36 کروڑ 19 لاکھ 76 ہزار روپے بنتی ہے۔ نایاب نسل کی اس بکری کی خطیر رقم میں خریداری کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جہاں اس سعودی شہری سے مختلف سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے اس سعودی شہری سے سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ اس بکری میں ایسی کیا خاص بات ہے جو آپ نےاسے خریدا جس پر اس سعودی شہری نے بکری کی نایاب نسل اور اسکی نایاب رنگت کے بارے میں بتایا۔عام طور پر بکریوں کی نسلوں میں یہ رنگ نہیں پایا جاتا

۔دوسری جانب کئی صارف سعودی شہری کو اس بکری کی اتنی خطیر رقم میں خریداری پر تنقید کا بھی نشانہ بنا رہے ہیںاور ان کا موقف ہے کہ اس بکری کو قربان ہی کرنا تھا تو اس پر اتنی رقم ضائع کرنے کا فائدہ۔ جتنے میں یہ بکری خریدی گئی اتنے میں اس دنیا میں موجود بہت سے بھوکے لوگوں کا پیٹ بھر سکتا تھا جب دنیا کا بڑا حصہ مالی بحران کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…