پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

جوڑوں کا درداور گٹھیا کے مریضوں کیلئے جادوئی نسخہ

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایشیا اور افریقہ میں کثرت سے روزمرہ کے کھانوں میں استعمال ہونیوالی ادرک سے متعلق ماہرین نے تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو جب ادرک یا اس کے اجزا کھلائے گئے تو ان کے جوڑوں میں سوزش کم ہوئی

اور گٹھیا کے مرض میں افاقہ ہوا۔زخم بھرنے اور بیکٹیریا سے لڑنے کے قدرتی جسمانی عمل میں تھوڑی بہت سوزش پیدا ہوتی ہے جس کے دوران جسم خون کے سفید خلیات خارج کرتا ہے لیکن یہ کیفیت ایک مسلسل صورت بھی اختیار کر سکتی ہے جبکہ گٹھیا کے مرض میں جوڑوں کے اطراف مستقل تکلیف کی وجہ بن جاتی ہے۔ایک تجربے میں جب گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کو ادرک کے کیپسول دن میں دو مرتبہ 6 ماہ تک کھلائے گئے تو ان کی جلن میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تاہم ان میں سینے کی جلن کا سائیڈ افیکٹ بھی نوٹ کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ادرک ہر قسم کی جسمانی سوزش اور اندرونی جلن کم کر سکتی ہے۔ جسمانی درد اور پٹھوں میں اینٹھن کے شکار مریض بھی ادرک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ادرک پاؤڈر کے کیپسول اور درد کی جگہ ملنے والی کریمیں بھی دستیاب ہیں۔ اس کی چائے بنا کر یا اسے پکوانوں میں ڈال کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ 2 سے 4 گرام ادرک دن میں تین مرتبہ کھائی جا سکتی ہے لیکن خیال رہے کہ اس کی مقدار 4 گرام سے ہرگز نہ بڑھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…