اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کے حالات بہتر ہوئے تو لاہور میں درندگی کی انتہا ہو گئی، لرزہ خیز انکشافات

datetime 28  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے حالات ٹھیک ہوتے ہی اب لاہور کے حالات بگڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں یہاں بھی نامعلوم لاشیں ملنے کی شرح میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، پولیس اپنے تمام دعوؤں کے باوجود ان ہلاکتوں کی محرکات تک نہیں پہنچ سکی نہ درج ہونے والے مقدمات کی پیش رفت ہو سکی ہے۔ ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے آج تک شہر کی 6 ڈویژنوں کے مختلف تھانوں کی حدود سے تقریباً 56 نامعلوم مرد، خواتین اور لڑکوں کی لاشیں ملی ہیں۔

کچھ ہلاکتیں تو نشے کی وجہ سے ہوئیں مگر بیشتر کو نہایت سفاکانہ انداز میں مارا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق ان نامعلوم لاشوں کے حوالے سے سٹی اور کینٹ ڈویژن سرفہرست ہیں۔ سٹی ڈویژن میں 12 نامعلوم لاشیں ملیں جن میں سے صرف تین کی شناخت ہو سکی دوسری طرف کینٹ ڈویژن میں بھی 12 لاشیں ملیں اور ان میں سے صرف چار لاشوں کی شناخت ہو سکی۔ سول لائن ڈویژن کی حدود سے 10 نامعلوم لاشیں ملیں اور ان میں سے 5 کی شناخت ہو سکی، صدر ڈویژن کے علاقوں سے 9 نامعلوم لاشیں ملیں ان میں سے تین کی شناخت کی جا سکی۔ ماڈل ٹاؤن ڈویژن کی حدود سے 8 نامعلوم لاشیں ملیں اور ان میں سے صرف 3 کی شناخت ہو سکی، اقبال ٹاؤن ڈویژن سے 5 لاشیں ملیں اور صرف ایک کی شناخت ہو سکی۔ 56 نامعلوم افراد کی لاشوں میں سے صرف 19 لاشوں کی فنگر پرنٹ میچنگ سسٹم کے ذریعے شناخت ہو سکی ہے جبکہ 37 لاشوں کی شناخت کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ ان نامعلوم لاشوں کے متعلق جب ایس ایس پی آر او عمران یعقوب سے پوچھاگیا تو انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن ونگ کے فنگر پرنٹ میچنگ سسٹم کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کر دیا گیا ہے جس کی مدد سے لاشوں کی شناخت کا عمل اب تیز ہو گا۔ عمرا یعقوب نے کہا کہ لاشوں کی شناخت کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے نادرا سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے اور باقی نامعلوم لاشوں کی شناخت بھی جلد کر لی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…