اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

عدالتی کارروائی کی من گھڑت رپورٹنگ 27ٹی وی چینلز کو بھاری پڑ گئی

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)نے 27نجی ٹی وی چینلز کو لاہور ہائیکورٹ کے زیرِ سماعت مقدمہ ’آمنہ ملک بنام وفاق پاکستان وغیرہ ‘ میں فاضل عدالت کے مورخہ 24اگست 2017ء کے ایک حکمنامہ کی غلط اور من گھڑت رپورٹنگ کرنے پر ایڈوائس جاری کرتے ہوئے انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے کو کہا ہے ۔ مذکورہ حکمنامے کے متعلق چلائی گئی خبریں اور رپورٹس اُس آرڈر سے قطعی مختلف تھیں

جو اتھارٹی کو جمعہ مورخہ 25اگست 2017ء بذریعہ فیکس 10بجکر 55منٹ پر صبح کے وقت موصول ہوا۔ عدالتی کاروائی کی غلط رپورٹنگ کرنے والے نیوز چینلز میں سٹی 42، لاہور نیوز،دُنیا نیوز، دن نیوز، کے ٹی این نیوز، 24نیوز، ڈان نیوز، کیپٹل ٹی وی، نیو نیوز، اے آر وائی نیوز، وقت نیوز، نیوز ون، 7۔نیوز، جیو نیوز، رائل نیوز، روز نیوز، بول نیوز، ایکسپریس نیوز، سماء ٹی وی، بزنس پلس، سچ ٹی وی، پاک نیوز، آج نیوز، جاگ ٹی وی، چینل 5، مشرق ٹی وی اور آواز ٹی وی شامل ہیں ۔ اِس طرح کی بے بنیاد اور غیر مصدقہ خبریں اور رپورٹنگ نہ صرف عدالتی کاروائی کے حوالے سے سنسنی پھیلانے کا باعث بنتی ہیں بلکہ اِن سے فاضل عدالت کی ساکھ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج نے بھی ٹی وی چینلز کی غلط رپورٹنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ایڈوائس کی ہے کہ اس طرح کی غلط رپورٹنگ سے باز رہیں کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اپنے میڈیا ہاؤسز کی ساکھ کوبھی نقصان پہنچانے کا موجب بنتے ہیں ۔ ریگولیٹرنے لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج کے مورخہ 24اگست 2017ء کے حکم کی روشنی میں ٹی وی چینلز کو پیمرا قوانین اور الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق 2015ء پر عملدرآ مد یقینی بنانے کو کہا ہے نیز پیمرا غلط رپورٹنگ کے معاملے پر پی بی اے کے ساتھ ایک مکالمہ بھی شروع کرنے جارہا ہے تاکہ اس طرح کے غیر پیشہ وارانہ عمل کا ہمیشہ کیلئے تدارک کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…