اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

2اہم صوبوں کی آبادی میں کمی،2کی آبادی میں اضافہ،مردم شماری کے نتائج میں مزید انکشافات

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی سطح پر اور پنجاب و سندھ کے صوبوں میں آبادی کی شرح نمو میں کمی آئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا کی آبادی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عبوری نتائج کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں مردوں کی تعداد 10 کروڑ 64 لاکھ 49 ہزار 322، خواتین کی تعداد 10 کروڑ 13 لاکھ 14 ہزار 780، اسی طرح خواجہ سراؤں کی تعداد 10 ہزار 418 ہے۔

پاکستان کی چھٹی قومی خانہ و مردم شماری کے عبوری نتائج جاری کر دیئے گئے ٗملکی آبادی 1998ء سے 2017ء کے دوران 2.4 فیصد کی سالانہ شرح نمو کے ساتھ 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار ہوگئی۔ جمعہ کو چھٹی مردم و خانہ شماری کے عبوری نتائج مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کئے گئے جس نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وزارت شماریات کو عبوری نتائج جاری کرنے کی اجازت دی اس سلسلے میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں چھٹی مردم شماری کے ابتدائی اور عبوری نتائج پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم سیوزرائیاعلیٰ نے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔مشترکہ مفادات کونسل نے پاکستان بیورو برائے شماریات کو چھٹی مردم و خانہ شماری کے حتمی نتائج کو مرتب کرنے کا کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔ مجموعی آبادی میں ملک میں مقیم افغان اور دیگر غیر ملکی بھی شامل ہیں جو مقامی آبادی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں تاہم اس میں رفیوجی ویلیج میں مقیم افغان مہاجرین اور سفارت کار شامل نہیں ہیں۔ عبوری نتائج کے مطابق ملکی آبادی میں 1998ء کی نسبت 57 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 1981ء کی مردم شماری کے بعد سے ملکی آبادی میں 146.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح ملکی آبادی میں 1998ء سے 2017ء کے دوران سالانہ اوسطاً 2.40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں گھرانوں کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 22 لاکھ 5 ہزار 111 ہو گئی ہے۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں گھرانوں کی تعداد 2 کروڑ 12 ہزار 797 جبکہ شہروں میں گھرانوں کی تعداد 1 کروڑ 21 لاکھ 92 ہزار 314 ہے۔ دیہی علاقوں کی مجموعی آبادی 13 کروڑ 21 لاکھ 89 ہزار 531 ہو گئی ہے جو 2.23 فیصد سالانہ کی اوسط شرح نمو کو ظاہر کرتی ہے۔ شہری علاقوں کی مجموعی آبادی 7 کروڑ 55 لاکھ 84 ہزار 989 ہے جو 2.70 فیصد سالانہ کی شرح نمو کو ظاہر کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…